Pakistani Maon Ki Na Ehli
پاکستانی ماؤں کی نااہلی
پاکستانی معاشرے میں بچوں کی تربیت کے حوالے سے ایک سوال بار بار ابھُرتا ہے کہ کیا واقعی مائیں اپنے بچوں کی تربیت میں کوتاہی کر رہی ہیں یا یہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ سچ یہ ہے کہ کسی ایک فریق کو مکمل ذمہ دار ٹھہرانا آسان تو ہے مگر درست نہیں۔ ماں بچے کی پہلی درسگاہ ضرور ہوتی ہے لیکن آج کا بچہ صرف ماں کی گود تک محدود نہیں رہا۔ اس کے گرد ایک پوری دنیا موجود ہے جو اس کی سوچ، اس کے رویے اور اس کے مزاج کو مسلسل تشکیل دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا کی یلغار نے اس عمل کو اور بھی تیز کر دیا ہے۔
یہ کہنا کہ پاکستانی ماؤں نے بچوں کو بگاڑ دیا ہے ایک سطحی تجزیہ ہے۔ مائیں آج بھی اپنی استطاعت کے مطابق بہترین کوشش کرتی ہیں مگر ان کے سامنے چیلنجز کی نوعیت بدل چکی ہے۔ پہلے تربیت کا دائرہ محدود تھا گھر، محلہ اور سکول۔ اب بچے کے ہاتھ میں موبائل ہے اور موبائل کے اندر ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہر طرح کا مواد بغیر کسی فلٹر کے موجود ہے۔ ماں چاہے جتنی بھی محتاط ہو اگر بچے کو بغیر نگرانی کے ڈیجیٹل آزادی دی جائے گی تو اس کے اثرات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں رہتا۔
سوشل میڈیا کی لت ایک نفسیاتی مسئلہ بن چکی ہے۔ بچے اسکرین کے سامنے گھنٹوں بیٹھے رہتے ہیں اور حقیقت سے کٹتے جاتے ہیں۔ یہاں ماں کا کردار ضرور اہم ہے مگر اسے تنہا ذمہ دار نہیں کہا جا سکتا۔ بہت سے گھروں میں ماں خود بھی اسی سوشل میڈیا کلچر کا حصہ بن چکی ہے۔ وہ خود مصروف ہے تو بچے........
