menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Urdu: Shanakht Ki Zuban Ya Nisab Ki Majboori

25 0
08.07.2026

اردو: شناخت کی زبان یا نصاب کی مجبوری

زبان کسی قوم کے منہ میں رکھا ہوا محض لفظوں کا مجموعہ نہیں ہوتی، وہ اس کے حافظے کی لو، اس کے باطن کی آواز اور اس کی تہذیبی قامت کا پیمانہ بھی ہوتی ہے۔ قومیں جب اپنے ماضی کو یاد کرتی ہیں، اپنے حال کو سمجھتی ہیں اور اپنے مستقبل کا خواب بنتی ہیں تو دراصل یہ سب کچھ زبان ہی کے آئینے میں دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ اسی لیے زبان کا مسئلہ کبھی صرف تلفظ، قواعد اور لغت کا مسئلہ نہیں ہوتا، یہ شناخت، اقتدار، تعلیم، سماجی مرتبے اور تہذیبی بقا کا مسئلہ بھی ہوتا ہے۔ پاکستان میں اردو کے باب میں یہی بنیادی سوال پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا اردو واقعی ہماری شناخت کی زبان ہے یا ہم نے اسے صرف نصاب کی ایک لازمی مشق بنا کر چھوڑ دیا ہے؟ یہ سوال محض ادبی نہیں، قومی اور تعلیمی سوال بھی ہے اور اس کا جواب ہماری ریاستی ترجیحات، طبقاتی ساخت، تعلیمی پالیسی اور تہذیبی خوداعتمادی کے اندر پوشیدہ ہے۔

اردو کی تاریخی حیثیت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ زبان برصغیر میں کسی ایک خطے یا نسل کی میراث کے طور پر نہیں ابھری بلکہ مختلف تہذیبوں، بولیوں، لسانی میل جول اور سماجی تعامل کے بطن سے پیدا ہوئی۔ اس کے مزاج میں دہلی کی تہذیب بھی شامل ہے، لکھنؤ کی شائستگی بھی، دکن کی وسعت بھی، پنجاب کی حرارت بھی اور عوامی زندگی کا وہ لہجہ بھی جو بازار، دربار، مدرسہ، خانقاہ اور فوجی چھاؤنی تک پھیلا ہوا تھا۔ اردو کی اصل قوت ہی یہ تھی کہ اس نے مختلف لسانی دھاروں کو باہم جوڑ کر ایک ایسا اظہار پیدا کیا جو عام فہم بھی تھا اور تہذیبی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو محض ایک ادبی زبان نہیں بنی بلکہ اجتماعی احساس، مذہبی شعور، سیاسی بیداری اور سماجی ربط کی زبان بنتی چلی گئی۔ تحریکِ پاکستان کے دوران یہی زبان ایک وسیع تر مسلم شناخت کی علامت کے طور پر سامنے آئی۔ مختلف علاقوں، نسلوں اور لہجوں میں منقسم آبادی کے لیے اردو نے ایک مشترک لسانی حوالہ فراہم کیا۔ اس میں مذہبی ادب بھی تھا، صحافت بھی، شاعری بھی، سیاسی خطابت بھی اور وہ جذباتی و فکری توانائی بھی جس نے جداگانہ قومی شعور کو لفظ عطا کیے۔ یہی تاریخی پس منظر تھا جس کی بنیاد پر قیامِ پاکستان کے بعد اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا۔

پاکستان میں اردو کا مسئلہ اعلان اور عمل کے درمیان اسی فاصلے کا شکار ہوگیا جو ہمارے ہاں اکثر نظریات اور پالیسیوں کے درمیان دکھائی دیتا ہے۔ دستور میں اردو قومی زبان ہے، تقریروں میں اردو قومی وقار کی علامت ہے، نصاب میں اردو لازمی مضمون ہے، ذرائع ابلاغ میں اردو سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے، مگر اقتدار کے ایوانوں، عدالتوں، بیوروکریسی، اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور کارپوریٹ دنیا میں اردو کا مقام ثانوی ہے۔ یوں صورت حال یہ بنی کہ زبان عوام کی ہے مگر اختیار کسی اور زبان کے پاس ہے، نعرہ اردو کا ہے مگر نظام کسی اور زبان میں چلتا ہے، جذبات اردو میں بھڑکتے ہیں مگر فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں۔ اس تضاد نے اردو کو ایک عجیب دو رُخی صورت حال سے دوچار کر دیا ہے: وہ قومی شناخت کی علامت بھی ہے اور عملی بے اختیاری کی مثال بھی۔

یہی تضاد تعلیمی نظام میں سب سے نمایاں شکل میں سامنے آتا ہے۔ پاکستان کے بیشتر طلبہ اردو سے محبت کرنا نہیں سیکھتے، اردو کا پرچہ پاس کرنا سیکھتے ہیں۔ ان کے لیے اردو ایک زندہ فکری تجربہ، تہذیبی تربیت اور تخلیقی اظہار کا دروازہ کم اور امتحانی مشقت زیادہ بن جاتی ہے۔ کلاس روم میں زبان کو اس کی جمالیات، فکری وسعت اور تہذیبی معنویت کے ساتھ پڑھانے کے بجائے اکثر اسے قواعد، تشریح، سوال جواب، اقتباسات، مشکل الفاظ اور یاد کردہ مضامین کی سطح تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے........

© Daily Urdu