menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sindh Tas Ki Tazvirati Jang

20 0
18.05.2026

سندھ طاس کی تزویراتی جنگ

دریاؤں کے دھارے محض پانی کے بہاؤ کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ تہذیبوں کی شہ رگ، ریاستوں کی معاشی بقا، زرعی تمدن کی روح اور جغرافیائی سیاست کے سب سے حساس استعارے بھی سمجھے جاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں دریائے سندھ کا نظام اسی نوعیت کی ایک حیاتیاتی و تزویراتی حقیقت ہے جس کے گرد گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی ایک پیچیدہ تاریخ گردش کرتی رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں انڈس واٹر ٹریٹی سے متعلق ثالثی عدالت کے فیصلے کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے اور پاکستان کے ممکنہ طور پر اقوامِ متحدہ سے رجوع کرنے کے عندیے نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ خطے میں پانی اب صرف قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا جیو پولیٹیکل ہتھیار بنتا جا رہا ہے جس کے اثرات مستقبل کی سفارت، سلامتی اور علاقائی استحکام پر گہرے نقوش چھوڑ سکتے ہیں۔

1960ء میں طے پانے والا انڈس واٹر ٹریٹی عالمی سفارتی تاریخ کے اُن معاہدات میں شمار کیا جاتا ہے جنہیں شدید سیاسی مخاصمت کے باوجود پائیدار تصور کیا جاتا رہا۔ سرد جنگ کے ماحول، جنگی کشیدگی اور متعدد عسکری تنازعات کے باوجود یہ معاہدہ دہائیوں تک قائم رہا اور اکثر ماہرین اسے جنوبی ایشیا میں بقا پذیر سفارت کاری کی ایک نادر مثال قرار دیتے رہے۔ مگر اب صورتِ حال یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے۔ بھارت کی جانب سے ثالثی فورم کو "غیر قانونی" قرار دینا دراصل صرف ایک عدالتی یا تکنیکی اعتراض نہیں بلکہ اس پورے قانونی و سفارتی ڈھانچے کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے جس کے تحت یہ معاہدہ چلایا جاتا رہا۔

نئی دہلی کا حالیہ مؤقف اس........

© Daily Urdu