Silicon Angutha Aur Digital Shanakht Ka Bohran
سیلیکون انگوٹھا اور ڈیجیٹل شناخت کا بحران
ڈیجیٹل عہد نے جہاں انسانی سہولت کو نئی وسعتیں عطا کی ہیں وہیں جرائم کی دنیا کو بھی ایسی باریک راہیں دکھا دی ہیں جن کا تصور چند برس قبل ممکن نہ تھا۔ کبھی نوسر باز جعلی کالز اور مشکوک لنکس کے ذریعے شہریوں کے واٹس ایپ یا دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرتے تھے، مگر اب دھوکے کی یہ صنعت ایک نئی سطح پر پہنچ چکی ہے۔ سیلیکون انگوٹھوں کے ذریعے سم کارڈز نکلوا کر مالیاتی کھاتوں تک رسائی حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مجرمانہ ذہن ٹیکنالوجی کی رفتار سے ہم قدم بلکہ بعض اوقات اس سے بھی آگے بڑھ رہا ہے۔
حال ہی میں کراچی کے ایک شہری کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ محض انفرادی واردات نہیں بلکہ ایک تشویش ناک رجحان کی علامت ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن اتھارٹی طارق نواز کے مطابق متاثرہ شہری کا موبائل نیٹ ورک اچانک معطل ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ ایک تکنیکی خرابی محسوس ہوئی، مگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ اسی نمبر کی ایک نئی سم جاری ہو چکی تھی۔ یوں اصل صارف کا رابطہ منقطع کرکے مجرم نے اس کے نام پر متبادل سم حاصل کی اور پھر اسی بنیاد پر مالیاتی اکاؤنٹس کو فعال کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق ملزم نے سیلیکون سے تیار کردہ مصنوعی انگوٹھے کی مدد سے بائیومیٹرک تصدیق کے عمل کو بھی دھوکہ دیا۔
یہ واقعہ کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اول، کیا بائیومیٹرک تصدیق کا نظام واقعی ناقابلِ تسخیر ہے؟........
