menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Nikah e Masnoon: Saadgi, Shaoor Aur Samaji Ahya Ki Naguzeer Zaroorat

29 101
19.02.2026

نکاحِ مسنون: سادگی، شعور اور سماجی احیاء کی ناگزیر ضرورت

نکاح انسانی فطرت کا پاکیزہ تقاضا اور شریعتِ اسلامیہ کا نہایت بابرکت ادارہ ہے۔ یہ محض دو افراد کا باہمی معاہدہ نہیں بلکہ دو خاندانوں کے درمیان ایک اخلاقی، روحانی اور سماجی رشتہ ہے جس کی بنیاد مودّت، رحمت اور ذمہ داری پر رکھی گئی ہے۔ قرآنِ مجید نے ازدواجی تعلق کو سکونِ قلب کا ذریعہ قرار دیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں شمار کیا۔ اس کے باوجود ہمارے معاشرے میں نکاح جیسی سادہ اور بابرکت سنت کو رسوم و رواج، نمود و نمائش اور مالی بوجھ تلے اس قدر دبا دیا گیا ہے کہ وہ آسانی کے بجائے دشواری کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال محض سماجی مسئلہ نہیں بلکہ فکری اور دینی انحراف کا نتیجہ ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے نکاح کو سہولت، اعتدال اور برکت کے ساتھ جوڑا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ سب سے زیادہ برکت والا نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔ اس تعلیم میں نہ صرف معاشی حکمت پوشیدہ ہے بلکہ ایک ہمہ گیر سماجی فلسفہ بھی کارفرما ہے۔ جب نکاح آسان ہوگا تو معاشرہ پاکیزگی کی طرف مائل ہوگا، بے راہ روی کم ہوگی اور نوجوانوں کے لیے حلال راستہ اختیار کرنا سہل ہوگا۔ برعکس اس کے، جب شادی کو معاشی مقابلہ آرائی اور سماجی برتری کا ذریعہ بنا دیا جائے تو اس کے نتائج طبقاتی تقسیم، احساسِ محرومی اور اخلاقی انتشار کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔

قرآنِ حکیم اسراف اور فضول خرچی سے واضح طور پر منع کرتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا" (الاعراف: 31)۔ یہ حکم زندگی کے ہر شعبے پر لاگو ہوتا ہے، مگر تقریباتِ........

© Daily Urdu