menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mazi Se Inqita, Mustaqbil Se Mehroomi

37 0
12.10.2026

ماضی سے انقطاع، مستقبل سے محرومی

اقوام کے زوال و انحطاط کی داستان ہمیشہ میدان ہائے کارزار میں ہزیمت، معیشت کی شکست و ریخت یا نظامِ حکمرانی کے انہدام ہی سے عبارت نہیں ہوتی، بسا اوقات انحطاط کی ایک ایسی خاموش، غیر محسوس اور تہہ نشیں صورت بھی رونما ہوتی ہے جس میں بظاہر تعمیر و ترقی کے مظاہر پوری آب و تاب سے جلوہ گر ہوتے ہیں، شہر جدید عمارتوں سے آراستہ ہوتے ہیں، شاہراہیں وسعت پذیر ہوتی ہیں، معاشی سرگرمیوں میں افزونی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور سائنسی و تکنیکی اختراعات زندگی کے معمولات کو یکسر تبدیل کررہی ہوتی ہیں، لیکن ان تمام ظاہری تحرکات کے باطن میں اجتماعی شعور اپنی تاریخی بنیادوں سے بتدریج انقطاع کا شکار ہونے لگتا ہے۔

یہ وہ تہذیبی خسارہ ہے جس کا اندراج نہ قومی محاصل کے گوشواروں میں ممکن ہے، نہ ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کے پیمانوں میں اس کی صحیح قدر و قیمت متعین کی جاسکتی ہے۔ جب کسی قوم کے تاریخی آثار و شواہد، علمی ذخائر، لسانی سرمائے، فنونِ لطیفہ اور اجتماعی تجربات کا تسلسل منقطع ہونے لگے تو درحقیقت اس کے وجود کی وہ معنوی اساس متزلزل ہونے لگتی ہے جس پر اس کی شناخت، فکری خود آگاہی اور مستقبل بینی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ قومی حافظے کی شکست و ریخت اسی ہمہ گیر تہذیبی زیاں کا نام ہے، جس کے نتائج فوری طور پر آشکار نہیں ہوتے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اپنے اثرات مرتب کرنے لگتے ہیں۔

قومی حافظے کا مفہوم محض ماضی کے واقعات کی یادداشت، تاریخی شخصیات کے تذکروں یا عہدِ رفتہ کی عظمت کے مناقب خوانہ بیان تک محدود نہیں یہ دراصل اجتماعی تجربے کی وہ ہمہ جہت، متحرک اور مسلسل روایت ہے جس میں زبان و ادب، علوم و فنون، معاشرتی اقدار، اجتماعی آزمائشیں، فکری تغیرات، دست کاریوں کے اسرار اور انسانی زندگی کے تہذیبی مظاہر ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ تاریخ واقعات کے زمانی تسلسل اور ان کے ظاہری احوال کو مرتب کرتی ہے، جب کہ تہذیبی حافظہ ان واقعات کی معنوی جہات، ان کے فکری مضمرات اور اجتماعی مزاج کی تشکیل میں ان کے کردار کو منکشف کرتا ہے۔ چنانچہ تاریخ سے بے اعتنائی اور تہذیبی حافظے سے انقطاع کا نتیجہ محض معلومات کا فقدان نہیں، بلکہ اپنی اجتماعی تشکیل کے اسباب و محرکات سے ناواقفیت بھی ہے۔ ایسی صورت میں معاشرہ یا تو اپنے ماضی کو غیر تنقیدی تفاخر کا موضوع بنا لیتا ہے یا اسے ایک فرسودہ، غیر متعلق اور ناقابلِ استفادہ عہد قرار دے کر اپنے حال سے اس کا رشتہ منقطع کردیتا ہے۔ دونوں رویے تاریخی بصیرت کے منافی ہیں، کیونکہ نہ ماضی کی ہر صورت قابلِ تقلید ہوتی ہے، نہ اس کی ہر شہادت قابلِ التفات ہونے سے محروم۔

پاکستان کی سرزمین اس اعتبار سے غیر معمولی تاریخی تنوع اور تہذیبی گہرائی کی حامل ہے کہ یہاں انسانی آبادکاری، شہری تمدن، تجارتی روابط، مذہبی روایتوں اور ثقافتی تعاملات کے متعدد ادوار کے آثار محفوظ ہیں۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا ممتاز مرکز موہن جو دڑو، گندھارا کے آثارِ قدیمہ، ٹیکسلا کے شہری و علمی مراکز، مکلی کا وسیع تاریخی مقبرستان، لاہور کا شاہی قلعہ و شالامار باغ اور روہتاس قلعہ........

© Daily Urdu