Maloomat Bohat, Danai Kitni?
معلومات بہت، دانائی کتنی؟
انسانی تہذیب کی داستان کو اگر صرف ایجادات، جنگوں، سلطنتوں، سائنسی دریافتوں اور معاشی ترقی کے واقعات سمجھا جائے تو اس کے ایک اہم پہلو سے محرومی رہ جاتی ہے۔ اس کے اندر ایک خاموش مگر مسلسل سفر بھی جاری ہے: معلومات سے فہم، فہم سے بصیرت، بصیرت سے حکمت اور حکمت سے دانائی تک۔ انسان نے آگ دریافت کی تو اسے ایک تجربہ حاصل ہوا، اسے خوراک، دھات اور روشنی کے لیے منظم کیا تو علم پیدا ہوا، لیکن جب اس نے یہ سوچنا شروع کیا کہ ہر طاقت کا استعمال کب، کیوں اور کس حد تک ہونا چاہیے تو علم نے حکمت کی طرف قدم بڑھایا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ذہانت محض حساب کرنے والی قوت نہیں رہتی بلکہ انتخاب کرنے والی بصیرت بن جاتی ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: "يُؤُتِي الُحِكُمَةَ مَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُؤُتَ الُحِكُمَةَ فَقَدُ أُوتِيَ خَيُرًا كَثِيرًا"، یعنی اللہ جسے حکمت عطا کرتا ہے اسے بہت بڑی خیر عطا ہوتی ہے۔ گویا حکمت محض معلومات نہیں بلکہ علم کو خیر، عمل اور ذمہ داری سے جوڑنے کی صلاحیت ہے۔
آج انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہمارے پاس ایسی مشینی قوتیں موجود ہیں جو چند لمحوں میں وہ معلومات تلاش، ترتیب اور تجزیہ کرسکتی ہیں جنہیں ایک فرد اپنی پوری زندگی میں بھی جمع نہ کرسکے۔ مگر معلومات کی کثرت نے انسان کو لازماً دانا نہیں بنایا۔ اطلاعات کے سیلاب، فوری ابلاغ، مصنوعی ذہانت اور الگورتھمی فیصلوں کے عہد نے یہ سوال مزید اہم کردیا ہے کہ جاننے اور سمجھنے،........
