menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mafahmat Ka Naya Daur

14 0
31.05.2026

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر تاریخ کے ایسے نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں سفارت کاری، عسکری حکمتِ عملی، توانائی کی سیاست اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوچکے ہیں کہ کسی ایک پیش رفت کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوتے ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی فضا اسی بڑی تبدیلی کا ابتدائی مظہر محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے مابین مکمل اور جامع معاہدہ ابھی فاصلے پر دکھائی دیتا ہے، تاہم یہ حقیقت اب عالمی سیاسی حلقوں میں تسلیم کی جا رہی ہے کہ کشیدگی کی طویل دہائیوں کے بعد باہمی رابطوں، خفیہ سفارت کاری اور تدریجی اعتماد سازی نے ایک نئی راہ ہموار کردی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خلیج کی سیاست میں ایک نئی حرکت پیدا کی ہے بلکہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے باہمی تعلقات کو بھی نئی جہت عطا کی ہے۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اگر مستقل طور پر کشیدگی سے محفوظ ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایران یا امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا بھر کی معیشت، توانائی منڈیوں اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک پر مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو تیل و گیس کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، ایسی مفاہمت سے براہِ راست معاشی ریلیف حاصل کرسکتے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں کمی نہ صرف صنعتی........

© Daily Urdu