Iran Mein Ehtejaj, Crackdown Aur Aalmi Rad e Amal
ایران میں مظاہرے، سینکڑوں ہلاکتیں، مظاہروں کو ہوا نہیں دے رہے، امریکا، یہ محض ایک خبر نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی اس پیچیدہ سیاسی بساط کا تازہ ترین منظرنامہ ہے جہاں طاقت، عوامی اضطراب، بیرونی بیانیے اور داخلی کمزوریاں ایک دوسرے میں گھل مل کر ایک نئے بحران کو جنم دے رہی ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں سے ایران کے بڑے شہروں میں ابھرنے والی احتجاجی لہر اب وقتی ردِعمل کے مرحلے سے نکل کر ایک سنجیدہ سیاسی و سماجی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے، جس کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست پر لرزہ طاری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تہران، مشہد، تبریز، قم اور ہمدان جیسے اہم اور علامتی شہروں میں سڑکوں پر نکلنے والے مظاہرین محض معاشی شکایات یا وقتی غصے کا اظہار نہیں کر رہے، بلکہ وہ ایک ایسے نظام کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں جسے وہ اپنے مسائل کا بنیادی سبب سمجھتے ہیں۔ شاہی دور کے پرچموں کا دوبارہ نمودار ہونا، آتش بازی اور شہری مراکز پر قبضے کی باتیں اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ احتجاج اب صرف مطالبات تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں سیاسی علامتیں، ماضی کی یادیں اور مستقبل کے متبادل تصورات بھی شامل ہو چکے ہیں۔ رضا پہلوی کی جانب سے احتجاج کی حمایت، شہری مراکز پر کنٹرول کی اپیل اور وطن واپسی کے اعلان نے اس تحریک کو ایک نیا سیاسی رنگ دے دیا ہے، جس سے ایرانی قیادت کی تشویش میں فطری اضافہ ہوا ہے۔
ریاستی........
