Dolat Ke Ambar Ya Maliyati Sarab?
دولت کے انبار یا مالیاتی سراب؟
عصرِ حاضر کی عالمی معیشت ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں دولت کی تعریف محض سکّوں، نوٹوں اور بینکوں کے خزانوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سرمایہ اب ڈیجیٹل، مالیاتی اور حصصاتی قوت کی ایک پیچیدہ صورت اختیار کرچکا ہے۔ حالیہ عالمی رپورٹ کے مطابق دنیا کے دس امیر ترین افراد کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 2.9 ٹریلین ڈالر کی دولت موجود ہے، مگر حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ یہ خطیر سرمایہ نقد رقم کی شکل میں محفوظ نہیں بلکہ بڑی بڑی کارپوریشنز کے حصص، سرمایہ کاری فنڈز، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور مالیاتی اثاثوں کی صورت میں موجود ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف جدید سرمایہ دارانہ نظام کی ماہیت کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ اس تصور کو بھی چیلنج کرتا ہے کہ ارب پتی افراد کے پاس بے شمار نقد دولت کے ڈھیر موجود ہوتے ہیں۔
درحقیقت جدید عالمی معیشت میں "دولت" کا مفہوم تبدیل ہوچکا ہے۔ اب دولت کا مطلب کسی خزانے میں رکھی ہوئی نقدی نہیں بلکہ کمپنیوں کی ملکیت، حصص کی قدر، برانڈ ویلیو، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت، خلائی ٹیکنالوجی، ای کامرس اور عالمی مالیاتی اثرورسوخ ہے۔ دنیا کے صفِ اول کے امرا، خواہ وہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہوں یا سرمایہ کاری کے میدان سے، ان کی دولت کا بڑا حصہ اسٹاک مارکیٹ........
