menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

79 Baras Ka Sawal: Naqsha Badle Ga Ya Tarz e Hukumrani?

29 0
yesterday

79 برس کا سوال: نقشہ بدلے گا یا طرزِ حکمرانی؟

ریاستیں صرف زمین کے ٹکڑوں سے نہیں بنتیں، وہ ایک مشترک عہد، اجتماعی شعور اور قانون کی بالادستی سے وجود پاتی ہیں۔ جغرافیہ ریاست کا جسم ہے، مگر آئین اس کی روح، ادارے اس کے اعضا ہیں اور عوام اس کی اصل قوت۔ اگر روح مضطرب ہو تو جسم کی نئی تراش خراش اسے صحت مند نہیں بنا سکتی۔ پاکستان کے 79 برس کا سب سے گہرا سوال بھی شاید یہی ہے کہ ہماری کمزوری انتظامی نقشے میں ہے یا اس سیاسی و آئینی مزاج میں جس کے تحت یہ نقشہ چلایا جاتا ہے؟ کیا ہمیں نئے صوبے درکار ہیں، نئی انتظامی اکائیاں یا ایک ایسا نیا طرزِ حکمرانی جو موجودہ آئینی عہد کو اس کی حقیقی معنویت عطا کرسکے؟

یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کی تاریخ محض حکومتوں کی تبدیلی کی تاریخ نہیں، بلکہ اقتدار، آئین اور عوامی اختیار کے باہمی تعلق کی ایک طویل کشمکش ہے۔ 1954ء میں دستور ساز اسمبلی اس وقت تحلیل کردی گئی جب دستور کا مسودہ تیار ہوچکا تھا۔ مولوی تمیزالدین خان کی قانونی جدوجہد اور وفاقی عدالت کے فیصلے نے آئینی اختیار اور ریاستی اقتدار کے درمیان وہ پیچیدہ باب کھولا جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس ہوئے۔

پھر 1956ء کا آئین آیا، پارلیمانی نظام قائم ہوا، پاکستان اسلامی جمہوریہ قرار پایا، مگر صرف دو برس بعد آئین منسوخ اور مارشل لا نافذ ہوگیا۔ 1962ء میں صدارتی نظام آیا، اختیارات مرکز میں مرتکز ہوئے اور بالواسطہ انتخابی بندوبست اختیار کیا گیا۔ 1970ء کے انتخابات نے بالغ رائے دہی کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کو ایک نئی قوت عطا کی، مگر اس مینڈیٹ کی آئینی منتقلی کا مرحلہ مکمل نہ ہوسکا اور بالآخر ملک ایک المناک قومی سانحے سے دوچار ہوا۔ 1973ء کا آئین اسی تاریخی تجربے کے بعد ایک نئے عمرانی و آئینی اتفاق کی صورت میں سامنے آیا، مگر آئین کا وجود اپنی جگہ اور آئینی روایت کا استحکام اپنی جگہ۔

یہاں تاریخ ایک نہایت لطیف حقیقت آشکار کرتی ہے: قانون کی کتاب اور قانون کی روح میں فاصلہ پیدا ہوجائے تو آئینی ریاست کا ظاہری ڈھانچہ باقی رہتے ہوئے بھی اس کی معنوی........

© Daily Urdu