menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dhalte Suraj Ke Taqub Mein (5)

18 0
18.05.2026

ڈھلتے سورج کے تعاقب میں (5)

عمر نے اپنی چیزیں اٹھائیں اور اس آدمی کا پیچھا کرنے لگا جو قاسم کی طرح لگ رہا تھا۔ وہ اسکی سائیکل کے ساتھ ساتھ "کریم شوز" سے کچھ فاصلے پر چل رہا تھا۔ اس نے دل میں کہا "اب بہت ہوگیا" اور پھر وہ بھاگتے ہوے اس کے بلکل قریب پہنچ گیا۔ اسے یقین تھا کے وہ قاسم کا ہی پیچھا کر رہا ہے۔ " اگر یہ قاسم نہ ہوا تو؟ بہت مایوسی ہوگی" وہ منہ میں بڑبڑایا۔ تمام پریشان کن سوچوں کے باوجود عمر اسکا پیچھا کرتا رہا اور آخر اسے کندھے سے دبوچتے ہوے پکڑ لیا، "معاف کرنا، لیکن بہت ضروری بات ہے"۔ ہاں! وہ قاسم ہی تھا، حواس باختہ اور ڈرا ہوا۔ جب عمر نے اسکا چہرہ دیکھا تو خدا کا شکر ادا کیا!

قاسم بغیر کچھ کہے چلتا رہا، آخر پانچ منٹ کے بعد وہ ایک چائے کی دکان کے پاس جا کر رک گیا، کیونکہ دنیا کے بڑے بڑے مسئلوں پر ایک کپ چائے پر ہی بات کی جاتی ہے۔ انہوں نے دو کپ افغانی چائے کا آرڈر دیا۔۔ عمر نے قاسم سے بیٹھ کر چائے پینے کو کہا۔ وہ ایک بینچ پر بیٹھ گیا اور کہا، "تمہارا شکریہ"۔

"تو۔ کیا تم اس لڑکی کو جانتے ہو؟" عمر نے قاسم سے پوچھا جو ابھی بھی ہانپ رہا تھا۔ "میں اسے اپنی بیوی کی وجہ سے جانتا ہوں" اس نے چائے کی ایک لمبی چسکی لیتے ہوے جواب دیا۔ عمر نے بھی چائے کی ایک چسکی لی ا ور آنکھیں بند کر لیں جیسے وہ اس وقت بہت تھکاوٹ محسوس کر رہا ہو۔ "کیا تم مجھے اسکے گھر لے جا سکتے ہو؟" عمر نے جلدی سے اپنے اصل مقصد کی طرف آتے ہوے پوچھا۔ قاسم نے سر ہلاتے ہوے ہاں میں جواب دیا۔ کیا ہم اسی وقت وہاں جا سکتے ہیں؟ عمر نے دوبارہ پوچھا۔ قاسم رضامند ہوگیا اور اگلے ہی لمحے وہ دونوں "خوم- Kholm" کے ایک گاؤں کی طرف چل دیئے۔۔

فرح کا گھر ڈھونڈنے وہ شہر کے شمال میں واقع ایک دوردراز گاؤں میں پہنچے۔ بہر حال انہوں نے پورا گاؤں چھان مارا لیکن اسکا گھر نہ مل سکا۔۔ انہوں نے گاؤں کے ہر گلی محلے میں فرح کی تصویر دکھاتے ہوے پوچھ گچھ کی لیکن کوئی کامیابی نہ ملی۔ عمر بہت نہ امید ہو چکا تھا، تھکاوٹ اسکے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ قاسم نے اسے بتایا کے انجان جگہ پر کسی کو ڈھونڈتے ہوے ایسی مشکلات کا آنا ایک عام بات ہے، اس نے مزید بتایا کے اکثر گاؤں والے جانتے ہوئے بھی صحیح معلومات نہیں دیتے کہ کہیں انہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔ البتہ قاسم بہت پر امید تھا۔۔

مسز ہیج کو اسی صبح ایک نہ معلوم شخص کا فون آیا۔ فون کرنے والے نے مسز ہیج کو خبردار کیا کے وہ کسی کو نہ بتائے کے اسکا فون آیا تھا یا وہ تفتیش کے لئے فرح کے گھر گیا تھا۔ جب مسز ہیج نے پوچھا کہ کیا اسکا تعلق کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے سے ہے، تو وہ بولا "تم ویسا ہی کرو گی جیسا نے میں کہا؟" کسی کو یہ پتا نہیں چلنا چاہئے میں نے فرح کے گھر کی تلاشی لی"۔ فون رکھنے سے پہلے اس شخص نے بتایا کے وہ سٹیٹ ڈپارٹمنٹ واشنگٹن ڈی-سی سے بول رہا ہے۔ وہ بہت سے سوال پوچھنا چاہ رہی تھیں لیکن اس شخص نے فون بند کر دیا۔

مسز ہیج اس واقعے کے بارے میں عمر کو بتانے کا سوچ رہی تھیں کہ اسی دن عمر کا فون آگیا۔ افغانستان میں مسلسل تین دن فرح کی تلاش کے بعد عمر نے کچھ نئی معلومات........

© Daily Urdu