menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qamar Ahmad: Cricket Sahafat Ke Shehanshah

9 0
latest

قمر احمد: کرکٹ صحافت کا شہنشاہ

کرکٹ کی دنیا میں بعض لوگ صرف واقعات کے راوی نہیں ہوتے بلکہ خود تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان کی زندگی محض ذاتی سفر نہیں رہتی بلکہ کھیل، معاشرے اور زمانے کی اجتماعی یادداشت بن جاتی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ صحافت کے افق پر قمر احمد بھی ایسی ہی ایک درخشاں شخصیت تھے جن کے انتقال کے ساتھ ایک پورا عہد رخصت ہوگیا۔ اٹھاسی برس کی عمر میں کراچی میں ان کا انتقال صرف ایک فرد کی وفات نہیں بلکہ کرکٹ صحافت کی اس نسل کے خاتمے کی علامت ہے جس نے کھیل کو صرف رپورٹ نہیں کیا بلکہ اسے جیا، محسوس کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ صحافتی دنیا میں وہ محبت سے صرف "کیو" کہلاتے تھے۔ یہ ایک حرف نہیں بلکہ ایک شناخت تھی، ایک ایسا حوالہ جسے دنیا بھر کے پریس بکسوں، میدانوں اور نشریاتی اداروں میں احترام کے ساتھ لیا جاتا تھا۔ پاکستان میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کے بعد جب انہوں نے صحافت کا راستہ اختیار کیا تو شاید خود انہیں بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ آنے والی کئی دہائیوں تک کرکٹ کی تاریخ کے سب سے معتبر گواہوں میں شمار ہوں گے۔

قمر احمد نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز لندن میں کیا اور پھر یہ سفر دنیا کے تقریباً ہر بڑے کرکٹ میدان تک جا پہنچا۔ انہوں نے متعدد اخبارات، رسائل اور عالمی خبر رساں اداروں کے لیے کام کیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے وابستگی نے ان کی شناخت کو مزید وسعت دی۔ ریڈیو ہو یا ٹیلی وژن، تحریر ہو یا تبصرہ، انہوں نے ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں ہونے والے 1992ء کے عالمی کپ میں انہوں نے نیوزی لینڈ کے نشریاتی ادارے کے لیے خدمات انجام دیں اور پاکستان کی تاریخی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہوں نے 2007ء کے عالمی کپ تک ہر عالمی کپ کور کیا، لیکن بعد ازاں محدود اووروں کی کرکٹ سے کنارہ کش ہو........

© Daily Urdu