menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Baap Ki Sakhti, Bete Ki Zindagi

12 0
latest

باپ کی سختی، بیٹے کی زندگی

باپ ایک ایسا رشتہ ہے جس کی محبت اکثر لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ وہ اپنی اولاد کے لیے دھوپ میں جلتا ہے تاکہ اس کے بچوں کو سایہ میسر رہے، خود مشکلات برداشت کرتا ہے تاکہ ان کی زندگی آسان ہو، اپنی خواہشات قربان کرتا ہے تاکہ ان کے خواب پورے ہو سکیں، مگر عجیب المیہ ہے کہ جس باپ کی پوری زندگی اولاد کے مستقبل کی تعمیر میں گزر جاتی ہے، اسی کی سختی کبھی کبھی اولاد کو ناگوار محسوس ہونے لگتی ہے۔

بچے کو باپ کی روک ٹوک پابندی دکھائی دیتی ہے، اس کی نصیحت مداخلت محسوس ہوتی ہے، اس کی خاموشی بے اعتنائی اور اس کی ناراضی ظلم معلوم ہوتی ہے۔ لیکن زندگی کا تجربہ جب شعور کی آنکھیں کھولتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جس ہاتھ نے کبھی آگے بڑھنے سے روکا تھا، وہ دراصل کسی گہری کھائی سے بچانا چاہتا تھا، جس آواز نے کسی خواہش کی تکمیل سے انکار کیا تھا، اس کے پیچھے کسی بڑے نقصان کا خوف چھپا تھا اور جس شخص کی سختی سے کبھی شکایت رہی تھی، وہی شخص ہماری ناکامیوں پر سب سے زیادہ دکھی اور ہماری کامیابیوں پر سب سے زیادہ خوش ہوتا تھا۔

باپ کی محبت ہمیشہ پھولوں کی طرح نرم نہیں ہوتی، کبھی وہ چٹان کی طرح مضبوط بھی ہوتی ہے۔ اس کی محبت کا ایک حصہ گود میں اٹھاتا ہے اور دوسرا حصہ زندگی کے طوفانوں کے مقابلے میں کھڑا ہونا سکھاتا ہے۔ ہر باپ اپنی محبت کا اظہار ایک ہی انداز میں نہیں کرتا۔ کوئی اپنے بچے کو گلے لگا کر حوصلہ دیتا ہے، کوئی اس کی پیشانی چوم کر دعا دیتا ہے اور کوئی اپنی پریشانی چھپا کر اسے ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ تاہم محبت کی ان تمام صورتوں کے درمیان ایک حقیقت مشترک ہے کہ ایک مخلص باپ اپنی اولاد کو صرف آج کی خوشی نہیں، کل کی زندگی کے لیے بھی تیار کرنا چاہتا ہے۔

باپ کی سختی کا پہلا امتحان عموماً اس وقت سامنے آتا ہے جب بچے کو اپنی خواہش اور گھر کی ضرورت کے درمیان فرق سمجھ میں نہیں آتا۔ بچہ کسی چیز کی فرمائش کرتا ہے، باپ آمدن اور اخراجات کا حساب دیکھتا ہے۔ بچے کی نظر خواہش پر ہوتی ہے، باپ کی نگاہ اس خواہش کے پیچھے موجود مالی ذمہ داریوں پر۔ بچے کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید اس کا باپ اس کی خوشی کا خیال نہیں رکھتا، لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ باپ نے اس کی فرمائش پوری کرنے کے لیے کتنی دوسری ضروریات مؤخر کی ہیں۔

کبھی اس نے اپنی پسند کا لباس نہیں خریدا، کبھی اپنی ضرورت کی کوئی چیز چھوڑ دی، کبھی دوستوں کی دعوت قبول نہیں کی اور کبھی اپنی بیماری کو نظر انداز کرکے کام پر چلا گیا، صرف اس لیے کہ گھر کا نظام چلتا رہے۔ بچے کو جیب سے نکلنے والا نوٹ دکھائی دیتا ہے، مگر اس نوٹ کے پیچھے بہنے والا پسینہ دکھائی نہیں دیتا۔ اسے بازار میں خریدی ہوئی چیز نظر آتی ہے، مگر اس چیز کے حصول کے لیے باپ کی کتنی خواہشات قربان ہوئیں، اس کا اندازہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات باپ کا انکار اولاد کے لیے محرومی اور باپ کے لیے........

© Daily Urdu