Madam Victoria Raeesmovna
میڈم وکٹوریہ رئیسموونا
ندیم پرنس کے ساتھ ایک مہینہ گذارنے کے بعد مجھے مدنی کے ساتھ شفٹ ہونا پڑا، میرے بارے دوست پوچھتے تو وہ بتاتا "پڑھ رہا ہوگا، انڈے بنا کر کھا رہا ہوگا یا نہا رہا ہوگا"۔ چھٹیوں کے بعد کلاس دوبارہ شروع ہوئی تو میں واحد سٹوڈنٹ تھا جسے تمام قواعد کسی حد تک زبانی یاد تھے، ہر ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن میرے نام پر مقرر ہو چکی تھی، میڈم وکٹوریہ بھی اب مجھے عزیز رکھتی اور دوسرے سٹوڈنٹس کے برعکس مجھے زیادہ وقت دیتی، اس شفقت کے باعث کچھ کلاس فیلوز بہت حسد محسوس کرتے جس کا وہ گاہے بگاہے اظہار بھی کرتے تھے، ایک دو مرتبہ کلاس میں ہاتھا پائی بھی ہوتے ہوتے رہ گئی، اب میں پڑھائی میں دوسروں کی مدد کرنے لگا تھا۔
سب سے پہلا پیریڈ میڈم وکٹوریہ کا ہوتا تھا، ایک گھنٹے بعد بریک ہوتی، تب ہم باری باری ایک سٹوڈنٹ کے کمرے میں چائے و ناشتہ کرتے، زیادہ تر شعیب کے کمرے کا ہی رخ کرتے، میڈم وکٹوریہ سے صحیح معنوں میں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، شکریہ ادا کرنا، اپنی غلطی پر فوراً معذرت کرنا، اٹھنے بیٹھنے، دوسروں کو مخاطب کرنے کا مہذب طریقہ، سچ بولوں تو عورت کی عزت کرنا اور عورت کو عزت دینا اس فرق کی تب سمجھ آئی، ہم سب پہلی مرتبہ پاکستان سے باہر نکلے تھے، پیسہ خرچ کرتے بھی ڈر لگتا تھا، تب ہر بندہ اپنے تئیں واحد دستیاب گوری لڑکی میڈم وکٹوریہ پر لائن مارنے کی کوشش کرتا تھا، جس دن میڈم ہاف بازو والی شرٹ پہن کر آتی، بے داغ گورے بازو، سب کا دھیان میڈم کی خوبصورتی کی طرف ہوتا اور وہ کیا بول رہی کچھ سنائی نہ دیتا، تب میڈم تاک کر چاک سے نشانہ لگاتی اور چاک سیدھا مدمقابل کے منہ پر جا لگتا، سب کی ہنسی چھوٹ جاتی اور بیچارہ سٹوڈنٹ شرمندہ ہو جاتا، میڈم اُسے گھور کر دیکھتی، اپنی دائیں انگشت شہادت بلند کرکے اپنے سر کے دائیں جانب کان کے اوپر رکھ کر دائیں بائیں گھماتی، جس کا مطلب ہوتا کہ "دماغ کہاں پر ہے؟" اور ہم سب کو اندازہ ہو جاتا تھا کہ موصوف کہیں دُور پہنچے ہوئے تھے، ویسے بھی اگر لیکچرار خوب صورت ہو تو لیکچر تبرک محسوس ہوتا ہے۔
ایک دن میڈم........
