Trump Mujtaba Mulaqat Aur Aman Nodel Prize
ٹرمپ-مجتبٰی ملاقات اور امن نوبیل پرائز
بات بہت واضح ہے۔ اگر ایران امریکہ ڈیل ہوئی تو وہ وینس-قالیباف ڈیل نہیں ہوگی۔ وہ ٹرمپ-مجتبی خامنہ ای ڈیل ہوگی اور پس منظر میں نوبیل پرائز ہوگا۔
ٹرمپ نے کل سوموار 13 اپریل کو کہا: "ایران نے آج صبح ہمیں فون کیا۔ وہ بہت بری طرح معاہدہ کرنا چاہتے ہیں"۔
ایک دن پہلے یہی آدمی کہہ رہا تھا: "مجھے فرق نہیں پڑتا"۔
یہ تضاد اتفاقی نہیں۔ یہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے اور ٹرمپ کو سمجھنے کے لیے اس کے الفاظ نہیں، اس کا نفسیاتی نقشہ پڑھنا ہوتا ہے۔
سی این این اور رائٹرز اور اسوسییٹڈ پریس کے مطابق امریکی عہدیدار ممکنہ تاریخوں، مقامات اور علاقائی ثالثوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جنیوا اور اسلام آباد دونوں دوبارہ میز پر ہیں۔ ایک ذریعے نے کہا: ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ اگر معاملات اس سمت بڑھیں تو فوری طور پر کچھ ترتیب دے سکیں"۔ سی این این نے لکھا: "ٹرمپ اور اس کے قریب ترین مشیروں میں سے بہت سے جنگ بندی کی کامیابی اور سفارتی حل کے خواہاں ہیں۔ فوجی حملے دوبارہ شروع ہوتے دیکھنے کی بہت کم خواہش ہے۔
ایک علاقائی ذریعے نے سی این این کو بتایا: "ترکیہ دونوں فریقوں کے درمیان فرق پاٹنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ جنیوا اور اسلام آباد اگلے دور کے لیے ممکنہ مقامات ہیں"۔ اگر ابتدائی بات چیت میں پیشرفت ہوئی تو جنگ بندی کی مدت بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔
اب سب سے اہم سوال: اگلا دور کون لے کر جائے گا؟
وینس نے فاکس نیوز پر کہا: "گیند ان کے پالے میں ہے"۔ مگر سی این این نے لکھا کہ وینس نے یہ بھی کہا کہ "ایرانی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد میں معاہدہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی اور انھیں تہران واپس جا کر منظوری لینی تھی"۔ یعنی وینس خود تسلیم کر رہا ہے کہ اگلے دور میں ایرانی ٹیم زیادہ اختیار لے کر آئے گی اور اگر ایرانی ٹیم زیادہ اختیار لے کر آئے تو امریکی ٹیم کو بھی زیادہ اختیار والے آدمی کو بھیجنا ہوگا۔ وینس سے اوپر صرف ایک آدمی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ۔
ایکسیوز نے 8 اپریل کو خصوصی رپورٹ شائع کی تھی جس کا عنوان تھا: "ایران کے رہبر اعلیٰ نے ٹرمپ کے ساتھ کیسے جنگ بندی تک پہنچے"۔ تین ذرائع کے حوالے سے بتایا: "رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای نے پہلی بار جنگ شروع ہونے کے بعد سے اپنے مذاکرات کاروں کو ہدایت کی کہ معاہدے کی طرف بڑھیں"۔ ایک علاقائی ذریعے نے کہا: "ان کی سبز جھنڈی کے بغیر معاہدہ نہیں ہوتا"۔ یعنی مجتبیٰ فیصلے کا آدمی ہے۔ بغیر اس کی منظوری کے کچھ نہیں ہوتا۔
مگر مجتبیٰ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ عوام کے سامنے نہیں آ سکتے۔ رائٹرز نے........
