menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Larijani Ke Baad Kya Hoga?

40 0
20.03.2026

لاریجانی کے بعد کیا ہوگا؟

ایران نے تصدیق کر دی ہے۔ سیکورٹی چیف علی لاریجانی اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ بیٹا مرتضیٰ بھی ساتھ مارا گیا۔ دفتر کا سربراہ بھی۔ اسرائیلی فضائی حملہ۔ رات کی تاریکی میں۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کاؤنسل نے بیان جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ "عمر بھر ایران اور اسلامی انقلاب کی سربلندی کے لیے جدوجہد کرنے والے نے آخرکار حق کی پکار پر لبیک کہا اور شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوا"۔

نتن یاہونے کا اسرائیلی ٹی وی پر ایرانی عوام کے لیے بیان نشر ہوا "آج صبح ہم نے علی لاریجانی کو ختم کیا جو انقلابی گارڈز کا باس تھا"۔ پھر ایرانی عوام سے مخاطب ہوا اور کہا: "چہارشنبہ منائیں۔ آتش بازی کریں"۔ یعنی جشن منائیں کہ ہم نے تمہارا نظام توڑ دیا ہے۔ مگر نتن یاہونے جو توڑا ہے وہ نظام نہیں۔ جو توڑا ہے وہ پل ہے۔ وہ واحد پل جو ایران کے اندر سے مغرب تک جاتا تھا اور اب وہ پل ملبے میں ہے اور ملبے پر سے گزرنے کا راستہ کسی کے پاس نہیں۔

بلومبرگ نے آج سرخی لگائی ہے: "لاریجانی کے قتل کے بعد امریکہ تہران میں بات کس سے کرے گا؟" سی این این نے لکھا ہے: "لاریجانی کا قتل جنگ ختم کرنے کی ہر کوشش کو پیچیدہ بنا دے گا"۔ مڈل ایسٹ آئی نے لکھا ہے: "اسرائیل ہر اس شخص کو مارتا رہے گا جو مغرب سے بات کر سکتا ہو؟" اور گلف نیوز نے لکھا ہے: "لاریجانی کی موت ایران کے اقتدار کے ڈھانچے میں زلزلہ لا سکتی ہے"۔

سوال یہ نہیں کہ لاریجانی کون تھا۔ یہ میں پچھلے مضمون میں لکھ چکا ہوں۔ کانٹ کا شاگرد۔ فلسفی۔ مذاکرات کار۔ بارہ سال اسپیکر۔ جوہری معاہدے کا معمار۔ وہ آدمی جو سپاہ سے بھی بات کر سکتا تھا اور یورپی سفارتکاروں سے بھی۔

آج کا سوال یہ ہے: اس کے قتل نے کیا حاصل کیا؟ اور جواب اسرائیل اور امریکہ کے لیے تباہ کن ہے۔

لاریجانی ایران کے نظام میں وہ واحد شخص تھا جو تین دنیاؤں میں بیک وقت چل سکتا تھا۔ پہلی دنیا سپاہ پاسداران کی تھی جہاں اس کی جڑیں تھیں۔ آئی آر جی سی میں خدمات انجام دیں۔ فوجی پس منظر تھا۔ سپاہ کے کمانڈروں سے ذاتی تعلقات تھے۔ دوسری دنیا مذہبی حلقے کی تھی۔ سسر مرتضیٰ مطہری تھا جو خمینی کا ساتھی تھا۔ بھائی صادق عدلیہ کا سربراہ رہا۔ خاندان قم اور نجف دونوں سے جڑا ہوا تھا۔ تیسری دنیا مغرب کی تھی۔ تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں پی ایچ ڈی۔ کانٹ، کرپکی، لوئس پر کتابیں لکھیں۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان کی بیٹی فاطمہ ایموری یونیورسٹی امریکہ میں تھوریسک آنکولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر رہی۔

سی این این نے ایک اہم بات لکھی ہے۔ ایک ذریعے نے بتایا کہ ستمبر دو ہزار پچیس میں لاریجانی امریکہ اور اسرائیل دونوں کا "سب سے پسندیدہ عبوری امیدوار" تھا۔ یعنی مغرب خود سمجھتا تھا کہ اگر ایران میں تبدیلی آئے تو لاریجانی وہ آدمی ہے جس سے بات ہو سکتی ہے۔ مگر پھر لاریجانی نے جنوری کے مظاہروں میں سخت کارروائی کی، جنگ شروع ہونے کے بعد امریکہ اور اسرائیل........

© Daily Urdu