Islamabad Ke Baad Kya Hua?
اسلام آباد کے بعد کیا ہوا؟
ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے کہا: "ہم اسلام آباد ایم او یو سے انچوں کی دوری پر تھے۔ پھر زیادہ سے زیادہ مطالبات آتے گئے، اہداف بدلتے گئے اور ناکہ بندی کا کی دھمکی کا سامنا ہوا"۔
ٹرمپ نے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان کے لیے تالی بجائی اور کہا: "زیادہ تر نکات پر اتفاق ہوگیا تھا مگر جو واحد نکتہ واقعی اہم تھا، ایٹمی، وہ نہیں ہوا"۔
دو جملے۔ دو حقیقتیں۔ دونوں بیک وقت سچ ہو سکتے ہیں اور یہی اسلام آباد کی پوری کہانی ہے۔
12 اپریل 2026 کی صبح وینس نے ایئر فورس ٹو کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے انگوٹھا دکھایا۔ چند گھنٹے بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر وہ اعلان کیا جس نے پوری تصویر بدل دی: "میں نے اپنی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو روکے اور پکڑے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔ غیر قانونی ٹول ادا کرنے والے کسی جہاز کو محفوظ گزرگاہ نہیں ملے گی۔ حکم فوری طور پر نافذ العمل ہے"۔
یعنی مذاکرات ناکام ہوئے اور امریکہ نے بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا۔ این پی آر نے تصدیق کی: "امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ جلد ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والے جہازوں کو روکے گی"۔ یوروو نیوز نے سرخی لگائی: "ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کے بعد آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حکم دیا"۔ تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر نکل گئی۔ ابھی آج مارکیٹ کھلے گی اور لگتا ہے کہ اربوں ڈالرزز کا خون ہوگا۔
پاسداران انقلاب نے فوری جواب دیا۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران نے خبردار کیا: "کوئی بھی فوجی جہاز جو آبنائے ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کرے گا اس سے سختی اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا"۔
اب جو ہو رہا ہے وہ سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہ صرف مذاکرات کی ناکامی نہیں، یہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔
سی این این نے ایک ایسی بات رپورٹ کی جو سب سے زیادہ حیران کن ہے: "پاکستانی سائیڈ حیران تھی کہ مذاکرات کیسے ٹوٹ گئے۔ پاکستان میں یہ تاثر تھا کہ جب ہفتے کی رات سرینا ہوٹل میں آمنے سامنے بیٹھے تو دونوں فریق معاہدے کے عمومی فارمولے کے قریب تھے۔ پاکستان کا یقین تھا کہ کئی دنوں کی بات چیت دونوں فریقوں کو قریب لا سکتی ہے۔ لہذا جب ایک دن سے بھی کم عرصے کی بحث کے بعد وینس نے اعلان کیا کہ مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے تو پاکستانی میزبانوں کے........
