menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ik Ishq Jo Hum Se Rooth Gaya

36 0
05.03.2026

اک عشق جو ہم سے روٹھ گیا

رات کے پچھلے پہر، روم کے ایک ہوٹل میں آنکھ کھلی تو شہر ابھی سویا ہوا تھا۔ باہر وہی ابدی شہر تھا جس نے صدیوں کو اپنے سینے میں سمیٹ رکھا ہے، جس کی ہر اینٹ کسی شاعر کی سانس سے گرم ہے، جس کی ہر گلی کسی فلسفی کے قدموں کی یادگار ہے۔ مگر میں نے کیا کیا؟ فون اٹھایا اور انسٹاگرام کھول لیا۔ ایک گھنٹہ گزر گیا کسی انجان آدمی کی بچی کھچی پیزا اور چپس کی سینڈوچ دیکھتے ہوئے۔ جب ہوش آیا تو دل نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے تمہارے ساتھ؟

کتاب میرے پہلو میں رکھی تھی۔ بالکل ویسے جیسے کوئی وفادار دوست خاموش بیٹھا انتظار کرتا ہے، بغیر شکوے کے، بغیر گلے کے۔ مگر میں نے اسے ہاتھ نہ لگایا۔ یہ صرف میری کہانی نہیں، یہ اس دور کی کہانی ہے جسے ماہرین نے "مابعد خواندگی کا عہد" کا نام دیا ہے،........

© Daily Urdu