Brand Pakistan, Aik Soft Power Ka Khwab
برینڈ پاکستان، ایک سافٹ پاور کا خواب
ایک سوال سے آغاز کرتا ہوں جو برطانوی سفارت کار لارڈ پامرسٹن نے 19ویں صدی میں پوچھا تھا: "ایک ملک کی طاقت اس کی بندوقوں سے ماپی جائے یا اس سے کہ اس کی بات کی کتنی وقعت یا ویلیو ہے؟" اس ایک سوال نے اگلے 170 سال کی بین الاقوامی سیاست کا فریم ورک طے کیا۔
1990 میں ہارورڈ کے پروفیسر جوزف نائے نے اس سوال کا جواب دیا اور "سافٹ پاور" کی اصطلاح وضع کی۔ انھوں نے کہا: "سافٹ پاور وہ صلاحیت ہے جس سے آپ دوسروں کو مجبور کیے بغیر، قائل کیے بغیر، بلکہ اپنی کشش سے اپنا گرویدہ بنا لیں"۔ دھمکی نہیں، جاذبیت۔ ہتھیار نہیں، ثقافت۔ پابندی نہیں، پسندیدگی۔ 35 سال بعد یہ تصور دنیا کا سب سے قیمتی اثاثہ بن چکا ہے۔
ہارڈ پاور اور سافٹ پاور کا فرق سمجھیں۔ ہارڈ پاور وہ ہے جو گلوبل فائر پاور انڈیکس 2026 ناپتا ہے۔ 145 ممالک۔ 60 سے زیادہ معیار۔ امریکہ پہلے نمبر پر، روس دوسرے، چین تیسرے، بھارت چوتھے، جنوبی کوریا پانچویں، برطانیہ چھٹے، فرانس ساتویں، جاپان آٹھویں، ترکیہ نویں اور اٹلی دسویں۔ پاکستان بارہویں نمبر پر ہے۔ یہ بندوقیں، طیارے، ٹینک، سپاہی، ایٹم بم شمار کرتا ہے۔ مگر یہ صرف جنگ کی طاقت ہے، امن کی نہیں۔
سافٹ پاور بالکل مختلف کہانی ہے۔ برانڈ فائنانس گلوبل سافٹ پاور انڈیکس 2025 میں 170,000 سے زیادہ لوگوں سے 100 سے زیادہ ممالک میں سروے کیا جاتا ہے۔ 193 اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کی پرکھ۔ 55 معیار۔ 8 ستون۔ 2025 کی رینکنگ: امریکہ پہلے نمبر پر (79.5 پوائنٹس)، چین دوسرے پر (72.8)، برطانیہ تیسرے پر، جاپان چوتھے، جرمنی پانچویں، فرانس چھٹے، کینیڈا ساتویں، سوئٹزرلینڈ آٹھویں، اٹلی نویں اور متحدہ عرب امارات دسویں نمبر پر۔
اصل کہانی یہ نہیں کہ کون پہلے نمبر پر ہے، اصل کہانی یہ ہے کہ برطانیہ چھ سال تک اس فہرست میں مسلسل پہلے نمبر پر اور پھر امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر رہا ہے۔ چین نے 2025 میں پہلی بار اسے پیچھے کیا۔ سوچیں: ایک جزیرہ جس کی آبادی 6 کروڑ ہے، جو امریکہ کے کے مقابلے میں معیشت کا چھٹا حصہ رکھتا ہے، جو چین کے مقابلے میں آبادی کا پچیسواں حصہ ہے، وہ دنیا کی سافٹ پاور رینکنگ میں دوسرے نمبر پر رہتا ہے۔ یہ کیسے؟
برطانیہ کی سافٹ پاور کا راز اس کے آٹھ ستون ہیں۔ پہلا ستون ہے زبان۔ انگریزی دنیا کی لنگوا فرانکا ہے۔ ڈیڑھ ارب لوگ بولتے ہیں۔ انٹرنیٹ کا 60 فیصد انگریزی میں ہے۔ سائنسی جرنلز کا 95 فیصد۔ دوسرا ستون ادب ہے: شیکسپیئر سے جے کے رولنگ تک۔ تیسرا تعلیم ہے: آکسفورڈ، کیمبرج، لندن سکول آف اکنامکس۔ دنیا کے 150 ممالک کے رہنماؤں نے برطانوی یونیورسٹیوں سے تعلیم پائی ہے۔ چوتھا میڈیا ہے: بی بی سی۔ 42 زبانوں میں نشریات۔ 400 ملین لوگ ہر ہفتے دیکھتے سنتے ہیں۔ پانچواں ستون ثقافت ہے: بیٹلز، کوین، ایڈ شیران، ہیری پوٹر، جیمز بانڈ، شیر لاک ہومز۔ چھٹا سفارتکاری ہے: دولت مشترکہ کے 56 ممالک۔ ساتواں قانونی نظام ہے: کامن لا جو 27 ممالک میں رائج ہے۔ آٹھواں برانڈز ہیں: رولز رائس، برٹش ایئرویز، ایچ ایس بی سی، باربری۔
لندن ہی کی بات کریں۔ برانڈ فائنانس گلوبل سٹی انڈیکس میں لگاتار دوسرے سال پہلے نمبر پر۔ لندن کا سینٹرل ایکٹیوٹی زون اکیلا 315 ارب پاؤنڈ کی جی وی اے پیدا کرتا ہے جو برطانیہ کی کل کا 11 فیصد ہے۔ شاہ چارلس کی تاجپوشی دنیا میں 4 ارب لوگوں نے دیکھی۔ شہزادی ڈیانا کی موت کی خبر نے پوری دنیا کو روایا۔ یہ سافٹ پاور ہے: بغیر بندوق چلائے دنیا کو ہلا دینا۔
سافٹ پاور بنتی کیسے ہے؟ یہ ایک ایک اینٹ رکھ کر بنتی ہے۔ ایک ایک صدی لگ جاتی ہے۔ پھر بھی ضمانت نہیں ہوتی۔ نیلسن منڈیلا کی 27 سالہ قید نے جنوبی افریقہ کو اخلاقی طاقت دی۔ گاندھی کی لاٹھی نے بھارت کو تین براعظموں میں احترام دلوایا۔ پھر بالی ووڈ نے شائیننگ اینڈ ڈانسنگ انڈیا کو پوری دنیا کو بیچا۔ نارویجن نوبل کمیٹی نے ناروے کو امن کا مرکز بنایا۔ سنگاپور نے لی کوان یو کی قیادت میں 40 سال میں تیسری دنیا سے پہلی دنیا کا سفر طے کیا۔ سوئٹزرلینڈ نے بینکنگ اور گھڑی سازی سے اپنا نام بنایا اور متحدہ عرب امارات نے 50 سالوں میں صحرا سے برج خلیفہ، مصنوعی جزائر اور ایئر لائن ہب........
