menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Washington Post Ki Mutnaza Khabar Ka Pas e Parda Sach

63 0
04.03.2026

واشنگٹن پوسٹ کی متنازع خبر کا پس پردہ سچ

واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز امریکہ کے دو ممتاز اور بہت بڑے اخبار ہیں، ان کا عالمی سطح پر بھی بڑا گہرا اور وسیع امپیکٹ پڑتا ہے۔ آج کے کالم میں واشنگٹن پوسٹ کی ایران حملے کے حوالے سے دی گئی حالیہ ایک سٹوری پر بات کرنا ہے، مگر پہلے دو عشرے پیچھے جا کر امریکی ہسٹری اور ان اخبارات کے طرزعمل پر نظر ڈالتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ تاریخ کبھی جھوٹ نہیں بولتی اور تاریخی تناظر سے آج کی چیزیں مزید صاف اور شفاف نظر آتی ہیں۔

بیس مارچ دو ہزار تین کو امریکہ نے عراق پر بڑا فوجی حملہ کیا۔ اس سے دو تین ماہ پہلے تک امریکی میڈیا میں دھواں دھار قسم کی کوریج ہوئی کہ عراق میں صدام حسین نے تباہی پھیلانے والے ہتھیار یعنی ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن (WMD)بنا رکھے ہیں جو وہ دنیا پر استعمال کرے گا۔ اس میڈیا وار میں سب سے زیادہ یہی نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ ہی استعمال ہوئے۔ بے شمار نیوز رپورٹیں، کالم، ادارئیے ان دونوں اخبارات نے شائع کئے۔ اس مقصد کے لئے بعض صدام دشمن جلا وطن عراقیوں کے سنسنی خیز انٹرویوز شائع کئے گئے۔

اس کمپین کے ذریعے یہ بھرپور تاثر امریکی عوام میں بنایا گیا کہ صدام حسین ایک شیطان صفت آدمی ہے اور اس کی زیرقیادت عراق پوری دنیا کے لئے خطرہ ہے۔ اس لئے امریکہ کو حملہ کرکے وہ تباہی پھیلانے والے ہتھیار قابو کرنے ہوں گے ورنہ انسانیت کو خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ نیویارک ٹائمز کی طرح واشنگٹن پوسٹ نے بھی عراق پر حملہ کے حق میں پالیسی لائن لی اور سترہ مارچ کو ایک زوردار اداریہ لکھا جس میں یہ کہا کہ........

© Daily Urdu