Rishte Adhoore Reh Jaate Hain
رشتے ادھورے رہ جاتے ہیں
موت جب عمر کی دہلیز پار کر چکی ہو تو ہم اسے ایک فطری واقعہ کہہ کر دل کو سمجھا لیتے ہیں جیسے کسی پرانے درخت کا سوکھ کر گر جانا جس کے بارے میں سب جانتے تھے کہ ایک دن ایسا ہونا ہی تھا۔ مگر یہ دل کی منطق ہے، زندگی کی نہیں۔ زندگی حساب نہیں مانتی، رشتے دلیل نہیں سنتے۔ وہ جہاں جڑ جاتے ہیں وہاں عمر، سال اور منطق سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔
ہمیں شروع سے اشاروں کنایوں میں یہی سکھایا جاتا ہے کہ بوڑھے کی موت پر زیادہ ماتم نہیں کیا جاتا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے بھرپور زندگی دیکھی، ذمہ داریاں نبھائیں، اولاد کو پال پوس کر بڑا کیا، انکی شادیاں کر لیں، اب اس کا جانا ایک تکمیل ہے۔ اس جملے میں بظاہر بہت حکمت چھپی ہوتی ہے مگر یہ حکمت صرف سننے والے کو تسلی دیتی ہے، جانے والے کے پیچھے رہ جانے والے دل کو نہیں۔ کیونکہ جو شخص برسوں ہماری زندگی کا حصہ رہا ہو، اس کی کمی عمر دیکھ کر کم نہیں ہو جاتی۔
یہی سوچ میرے اندر بھی خاموشی سے پکتی رہی تھی۔ میں بھی یہی مانتا تھا کہ جوان کی موت زیادہ کربناک ہوتی ہے، بوڑھے کی موت میں دکھ........
