menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sirf Zinda Rehna Nahi Jeena Bhi Seekhein

18 0
sunday

صرف زندہ رہنا نہیں جینا بھی سیکھیے

ہم نے ایک ایسی معاشرتی تعریف ایجاد کر لی ہے جس میں کامیاب انسان وہ ہے جو سب کی ضرورتیں پوری کرے، مگر کسی کو یہ پوچھنے کی فرصت نہیں کہ اس ضرورت پوری کرنے والے انسان کی اپنی ضرورتیں کیا ہیں۔ ہمارے ہاں کسی شخص کے کندھوں پر جتنی زیادہ ذمہ داریاں ہوں، اسے اتنا ہی قابلِ احترام سمجھا جاتا ہے۔ وہ والدین کا سہارا ہے، بہن بھائیوں کی امید ہے، بچوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، رشتہ داروں کے مسائل کا حل ہے۔ مگر اسی فہرست میں ایک شخص کہیں موجود نہیں ہوتا اور وہ خود وہ شخص ہے۔ یہی ہمارے معاشرے کا ایک خاموش مگر گہرا المیہ ہے۔

مسئلہ خاندان سے محبت کا نہیں، اس سوچ کا ہے جس نے محبت کو مستقل قربانی اور قربانی کو خود فراموشی بنا دیا ہے۔ غریب اور نچلے متوسط طبقے کے بہت سے بچے زندگی کو خواہشوں کے بجائے ذمہ داریوں کی فہرست سے سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہیں بہت جلد معلوم ہو جاتا ہے کہ گھر میں پیسے کم ہیں، ضروریات زیادہ ہیں اور ان کی اپنی خواہشیں سب سے آخر میں آتی ہیں۔ چنانچہ وہ جوان ہونے سے پہلے ہی بالغ ہو جاتے ہیں۔ ان کے خواب بھی حساب کتاب سیکھ لیتے ہیں۔ کوئی چیز پسند آتی ہے تو قیمت پہلے نظر آتی ہے، خواہش بعد میں۔ کہیں جانے کا دل چاہتا ہے تو خرچ سامنے آ جاتا ہے۔ اپنے لیے کچھ خریدنے لگتے ہیں تو گھر کی کوئی ضرورت یاد آ جاتی ہے۔ یوں انسان کی شخصیت میں ایک ایسا مالی خوف پیدا ہو جاتا ہے جو آمدنی بڑھنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔

یہیں سے ایک اور حقیقت سامنے آتی ہے کہ غربت صرف جیب کی حالت نہیں رہتی بلکہ ذہن کی ساخت بن جاتی ہے۔ آدمی لاکھوں کمانے لگے، مگر اندر سے وہی شخص رہتا ہے جس نے کبھی ہر خرچ سے........

© Daily Urdu