menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jab Insan Bebas Ho Jaye

24 0
17.08.2026

جب انسان بے بس ہو جائے

انسان کی زندگی میں کبھی کبھی ایسے لمحے بھی آتے ہیں جب اس کے پاس طاقت کے تمام پیمانے اور ذرائع اچانک بے معنی ہو جاتے ہیں۔ دولت کام نہیں آتی، تعلقات بے بس دکھائی دیتے ہیں، اختیار کی حد ختم ہو جاتی ہے، ادارے خاموش ہو جاتے ہیں اور وہ قوتِ ارادی بھی، جس کے سہارے انسان عمر بھر مشکلوں کا مقابلہ کرتا رہا ہو، ایک مقام پر آ کر تھکنے لگتی ہے۔

شاید یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان پہلی مرتبہ پوری طرح سمجھتا ہے کہ وہ خود کتنا بے اختیار ہے اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں دعا محض الفاظ نہیں رہتی، بلکہ دل کی آخری پکار بن جاتی ہے۔

قرآن ہمیں حضرت یونسؑ کی وہ دعا سناتا ہے جو صدیوں سے بے بسی کے اندھیروں میں گھِرے انسان کے لیے امید کا چراغ بنی ہوئی ہے:

لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنُتَ سُبُحَانَكَ إِنِّي كُنُتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بے شک مجھ سے خطا ہوئی۔

یہ الفاظ ایک ایسے انسان کی زبان سے نکلے جو تین اندھیروں میں گھر گیا تھا، رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔

کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ کوئی انسانی مدد وہاں نہیں پہنچ سکتی تھی۔ کوئی تدبیر باقی نہیں رہی تھی اور شاید یہی اس دعا کا سب سے بڑا راز ہے۔ جب تدبیر ختم ہوتی ہے تو تقدیر کا دروازہ کھلتا ہے۔ لیکن قرآن ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ دعا کوئی ایسا نسخہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنی مرضی کا نتیجہ اللہ سے منوا لیں۔ دعا تو دراصل اپنی مرضی کو اس ذات کے سامنے رکھ دینا ہے جو ہم سے کہیں زیادہ جانتی ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔

اسی لیے یونسؑ کی دعا میں پہلے اپنی مصیبت کا ذکر نہیں آتا۔ وہ دشمنوں کا شکوہ نہیں کرتے۔ وہ حالات کو الزام نہیں دیتے۔ وہ یہ نہیں کہتے کہ میرے ساتھ یہ کیوں ہوا۔

وہ پہلے اللہ کو پکارتے ہیں: لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنُتَ

پھر کہتے ہیں: سُبُحَانَكَ

تو پاک ہے، ہر نقص اور ہر کمزوری سے بلند۔

اور آخر میں انسان کی اپنی حقیقت سامنے آتی ہے: إِنِّي كُنُتُ مِنَ........

© Daily Urdu