menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kuch Tafreeh e Taba Ki Baatein

22 0
25.04.2026

کچھ تفریحِ طبع کی باتیں

بحریہ ٹاؤن کراچی سے جناب نجم الدین سکندر نے اسلام آباد میں ہونے والی ایک ادبی تقریب کا دعوت نامہ ہمیں ارسال فرمایا ہے۔ تقریب میں ہمیں بُلانے کے لیے نہیں، بلکہ اِس بہانے ہمیں ڈانٹ پلانے کے لیے کہ "آپ کی ناک کے نیچے یہ کیا ہو رہا ہے؟"

دعوت نامہ اور ڈانٹ موصول ہوتے ہی ہم نے گھبرا کر اپنی ناک کے نیچے دیکھنے کی کوشش کی تو اُس وقت ہماری ناک کے تقریباً دو انچ نیچے کے علاقے سے چائے کے مرغولے اُٹھ رہے تھے۔ کیا ہی فرحت بخش اور مفرح چائے تھی، سو ہم نے لگے ہاتھوں بلکہ فنجان بکف، ہوکر دعوت نامے پر بھی نظر ڈال لی۔ ڈریے نہیں، فنجان، پیالی کو کہتے ہیں۔

یہ دعوت نامہ ایک وقیع علمی و ادبی تنظیم کی طرف سے "تقریبِ یومِ اقبال" کا دعوت نامہ ہے۔ تقریب اسلام آباد کی ایک معروف یونیورسٹی میں ہورہی ہے۔ دعوت نامے میں دی گئی تفصیل کے مطابق ملک کے نام ور اہلِ علم، فاضل اساتذہ، مشہور شعرا اور سرکاری ادبی اداروں کی سربراہی کے منصب پر فائز ذی وقار شخصیات اور اُردو زبان و ادب کے متعدد ماہرین اس تقریب سے خطاب کریں گے۔

تقریب کی جو ترتیب دعوت نامے کے کارروائی نامے، (Agenda) میں درج ہے اُس کا آخری اندراج ہے: "اختتامِ اجلاس و مفروحات"۔ بس یہی ٹکڑا ہمارے سکندرِاعظم کے حملے کا ہَدَف بن گیا ہے۔ برادر نجم الدین سکندر لکھتے ہیں: "یہ مفروحات، میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں نے تو مفرحات، پڑھا اور سُنا ہے، بغیر واؤ کے۔ جس نے بھی یہاں مفرحات، کے بیچ میں واؤ داخل کیا ہے اُس کے لیے ایک زوردار، Wow. جب یومِ اقبال، کی تقریب ہو اور ایسی باوقار علمی و ادبی تنظیم کے تحت ہورہی ہو تو حضورِ والا! یہ غلطی ناقابلِ معافی اور قابلِ احتساب ہوجاتی ہے۔ اقبال........

© Daily Urdu