menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jahanum Ke Kunday

14 0
17.04.2026

اسلام آباد کے ڈاکٹر مظہر عباس رضوی نہ صرف ماہرِ امراضِ اطفال ہیں، بلکہ ماہرِ امراضِ اضمحلال بھی ہیں۔ ہائیں؟ یہ اضمحلال، کون سا نیا اُردو مرض دریافت ہوگیا ہے؟ ارے صاحب یہ مرض تو آج کی ترقی یافتہ دنیا کے انسانوں کا عام مرض ہے۔ اضمحلال کا مطلب ہے سُستی، پَژ مردگی، تھکن، کاہلی، اُداسی، کمزوری اور ناطاقتی وغیرہ۔ چچا غالبؔ کی ناطاقتی، کمزوری اور بڑھاپے کے وقت کا مشہور شعر ہے:

مضمحل ہو گئے قویٰ غالبؔ وہ عناصر میں اعتدال کہاں

اوپر مرضِ اضمحلال کی جتنی کیفیات بیان کی گئی ہیں ڈاکٹر مظہر عباس رضوی اُن کے علاج کے لیے پُرمزاح شاعری کرتے ہیں۔ اب سے دو برس پہلے "دخل در ماکولات" کے عنوان سے اُن کا ایک مجموعۂ کلام منظرعام پر آیا تھا، جو شگفتہ دسترخوانی شاعری پر مشتمل ہے۔ اس دسترخوان سے ایک کبابی شعر چکھ لیجے، جس کے دونوں مصرعوں میں کھانے کھلانے کا ذکر ہے، پھر آگے بڑھیے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے مریضانِ مضمحل کے لیے یومِ عید کا نسخہ تجویز کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ۔

نہ کھائیں اتنے بھی اب پیچ و تاب عید کے دن

کھلا دے زوجہ نہ چپلی کباب عید کے دن

آج سے چند روز قبل اِنھیں ڈاکٹر صاحب کا ایک مختصر پیغام اور ایک مختصر سوال موصول ہوا۔ اپنے پیغام میں اُنھوں نے کالم نگار کی توصیف (اپنی طبی زبان میں) کرتے ہوئے کہا:

"آپ کے کیے گئے الفاظ کے پوسٹ مارٹم ہم بہت شوق سے پڑھتے ہیں"۔

پھرایک غیر طبی سوال (گویاادبی زبان میں) کرتے ہوئے پوچھا:

"ایک محاورہ ہے جہنم کے کندے۔ اس میں کندے، کا کیا مطلب ہے؟"

سوال غیر طبی سہی، مگر ظاہر ہے کہ ایک ڈاکٹر کے لیے اس سوال کا جواب جاننا ضروری ہے، کیوں کہ آج کل جنت میں جانے والے ہوں یا جہنم میں........

© Daily Urdu