menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Molana Fazal Ur Rehman: Kamyab Siasat Dan, Nakam Rehnuma

21 0
20.07.2026

مولانا فضل الرحمٰن: کامیاب سیاست دان، ناکام رہنما

ممکن ہے بہت سے لوگ مجھ سے اختلاف کریں، لیکن میرے نزدیک مولانا فضل الرحمٰن ایک کامیاب سیاست دان تو ہیں، مگر ایک کامیاب رہنما نہیں۔ سیاست دان ہونا الگ بات ہے اور رہنما ہونا الگ بات ہے۔ سیاست میں مولانا فضل الرحمٰن کا ایک بڑا نام ہے۔ وہ سیاسی جوڑ توڑ کے ماہر ہیں، سیاست کی پیچیدہ گتھیاں سلجھانا جانتے ہیں اور بہت سے سیاست دان انہیں اپنا استاد مانتے ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور اپوزیشن، تینوں کے ساتھ بیک وقت توازن قائم رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی حکومت کا کردار ادا کر لیتے ہیں اور بظاہر اسٹیبلشمنٹ مخالف ہوتے ہوئے بھی اسٹیبلشمنٹ کے لیے مفید ثابت ہوتے ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کو وہ بات بھی سختی سے کہہ دیتے ہیں جس کی پاداش میں دوسرے سیاست دان جیلوں میں بند ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ اس مہارت سے کرتے ہیں کہ بیک وقت کئی متضاد کردار ادا کرنے کے باوجود ان کی سیاسی حکمتِ عملی پر باآسانی انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملتا۔ یہی ان کی سیاسی مہارت کی دلیل ہے۔ ایک ماہر سیاست دان سیاسی بساط پر کامیاب چالیں چل سکتا ہے، حکومتیں بنا اور گرا سکتا ہے، اتحاد تشکیل دے سکتا ہے اور اپنے سیاسی مفادات حاصل کر سکتا ہے، لیکن ایک حقیقی رہنما کا کام صرف سیاسی کامیابیاں حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ رہنما اپنے کارکنوں، پیروکاروں اور اپنے سے عقیدت رکھنے والوں کی فکری، اخلاقی اور انسانی تربیت بھی کرتا ہے۔ میرے خیال میں مولانا فضل الرحمٰن اس میدان میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے بہت سے کارکن اپنی جماعت، اپنے قائدین اور اپنے سیاسی مؤقف سے اختلاف کرنے والوں کو گالم گلوچ، الزام تراشی اور بدزبانی کا نشانہ بناتے ہیں۔ بڑے بڑے علماء کرام بھی ان کی بد اخلاقی سے محفوظ نہیں رہے۔ مختلف ادوار میں مولانا طارق جمیل سے مفتی محمد تقی عثمانی تک، مولانا عدنان کاکا خیل سے مولانا زاہد صاحب تک، مفتی طارق مسعود سے مفتی عبد الرحیم تک، مولانا محمد خان شیرانی سے مولانا احمد لدھیانوی تک، متعدد علماء کرام کے خلاف جمعیت کے بعض کارکنان سوشل میڈیا پر انتہائی نامناسب زبان استعمال........

© Daily Urdu