Deeni Madaris Aur Ulma Par Be Bunyad Aur Mutasibana Ilzamat
دینی مدارس اور علماء پر بے بنیاد اور متعصبانہ الزامات
فیس بک پر ایک پیج پر ایلیٹ طبقے کی دیگر اخلاقی پستیوں کی طرح ان کی ہوسناکی کے حوالے سے بات کی گئی تھی، لیکن اس پر سنجیدہ گفتگو کرنے کے بجائے بعض متعصب افراد نے بات کا رخ موڑتے ہوئے مدارس اور علماء پر یہ الزام دھر دیا کہ اس معاشرتی بگاڑ کے اصل ذمہ دار بھی "مولوی" ہیں، کیونکہ وہ ایسے کاموں سے روکتے نہیں، بلکہ خود ملوث ہیں۔ یہ الزام بحیثیت مجموعی پورے طبقے پر لگایا گیا، جو سراسر جھوٹ، بدنیتی اور تعصب پر مبنی ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ مدارس اور علماء کے خلاف زہر اگلنے کو اپنا وطیرہ کیوں بنائے ہوئے ہیں؟
جس طرح دیگر طبقات معاشرے کا حصہ ہیں، اسی طرح مدارس اور علماء بھی اس معاشرے کے اہم ستون ہیں۔ بلاجواز مخالفت اور الزام تراشی کرنا ان لوگوں کی بدنیتی کو ثابت کرتا ہے۔ اگر واقعی دینی مدارس اور علماء کے کردار کے حوالے سے کوئی قابلِ اعتراض بات ہو تو اس پر تنقید کرنا ہر شخص کا حق ہے، لیکن "تنقید" اور "بہتان" میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ اگر کسی مدرسے، مسجد یا کسی مذہبی شخصیت سے وابستہ فرد نے کسی بچے کے ساتھ زیادتی جیسے گھناؤنے جرم........
