Ye Aankhen Khoon Royen Gi
یہ آنکھیں خون روئیں گی
کچھ جملے محض کہے نہیں جاتے، وہ انسان پر گزرتے ہیں۔ یہ مصرع بھی ایسا ہی ہے، اس میں درد کی وہ شدت چھپی ہے جو شور نہیں مچاتی، بس اندر ہی اندر سب کچھ چیر ڈالتی ہے۔ جب جگر چھلنی ہوتا ہے تو آنکھیں آنسو نہیں گراتیں، وہ خون روتی ہیں، کیونکہ بعض صدمے آنکھوں تک پہنچنے سے پہلے روح کو لہولہان کر چکے ہوتے ہیں۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں مسکراہٹ کو طاقت اور خاموشی کو کمزوری سمجھ لیا گیا ہے۔ لوگ ہنستے ہوئے ٹوٹتے ہیں، جیتے جی مرتے ہیں اور پھر بھی"سب ٹھیک ہے"کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
کسی کو کیا خبر کہ اس ظاہری ٹھیک ہونے کے پیچھے کتنی راتیں ہیں جو سسکیوں میں کٹیں، کتنی دعائیں ہیں جو آسمان تک پہنچنے سے پہلے ہی بوجھ بن گئیں۔ یہ آنکھیں جو خون روئیں گی، کسی ایک شخص کی نہیں ہوتیں۔ یہ ان ماؤں کی آنکھیں ہیں جن کے خواب کفن میں لپٹے اور ان نوجوانوں کی پلکیں ہیں جن کے حوصلے سوالوں کی گرد میں گم ہو گئے۔ بے بسوں کے خواب جو غربت کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، دکھ جب اجتماعی ہو جائے تو آنسو ذاتی نہیں رہتے وہ تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔
معاشرتی زندگی میں انسان کو جن آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے، اُن میں ایک اہم آزمائش بے فیض لوگوں کے ساتھ نباہ بھی ہے۔ یہ وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنے مطلب، مفاد کی خاطر تعلق میں تو شامل رہتے ہیں، مگر........
