Sadar Trump Aur Iran Ki Jang
صدر ٹرمپ اور ایران کی جنگ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کی وجہ سے ہر ایک کی نظریں امریکا کے مِڈ ٹرم انتخابات اور اسرائیل میں عام انتخابات کے حتمی نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔ اسرائیل نے اب تک جو بھی جنگ علاقے کے ممالک پر مسلط کی ہے اس میں اس کو امریکا و مغرب کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔ ابھی تک اسرائیل نے جو کچھ بھی حاصل کیا ہے اسے مغرب اور خاص کر امریکا و برطانیہ کے طفیل ملا ہے۔
اسرائیل نے ایک عرصہ پہلے ایٹمی قوت حاصل کر لی تھی لیکن امریکی چھتری حاصل ہونے کی بدولت اس پر نہ تو پابندیاں لگیں اور نہ ہی کسی نے انگلی اُٹھائی۔ اسرائیلی وزیرَ اعظم نتن یاہو بار بار واشنگٹن کا چکر لگاتے ہیں اور امریکی قیادت کو اپنے گھناؤنے جنگی پروگراموں پر قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ویسے ان کی کوششیں محض ایک دکھاوا ہوتی ہیں کیونکہ امریکا دنیا میں اگر کسی کے شکنجے میں ہے تو وہ اسرائیلی قیادت ہے۔ اسرائیلی قیادت جو بھی جنگی و معاشی پروگرام بنائے امریکا جلد یا بدیر اس پر عمل در آمد کے لیے راضی ہو جاتا ہے۔
ایران کے بارے میں امریکا و اسرائیل کے اہداف میں کچھ اختلاف ہے۔ امریکا کے اہداف میں پہلے پہل یہ کہا گیا کہ ایران کو کسی صورت بھی جوہری قوت نہیں بننے دینا۔ انقلابِ ایران سے لے کر اب تک کسی بھی وقت ایران نے جوہری قوت بننے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ ایران کو جوہری قوت بننے سے روکنے کا امریکی ہدف بس اتنا ہے کہ آٹا گوندھتے ہلتی کیوں ہو۔ اس ہدف کے بعد کہا گیا کہ ایران میں لوگوں کو انسانی حقوق حاصل نہیں اور ایرانی حکومت سے ایرانی عوام کوچھٹکارا دلانا ضروری ہے۔ یہ ہدف بھی گزرتے وقت کے ساتھ آیا گیا ہوگیا۔ ایرانی حکومت کو تبدیل کرنا اگلا ہدف ٹھہرا۔ ایران پر حملے میں بہت مہلک ہتھیار........
