Masnoi Zahanat, Fawaid o Khatraat
مصنوعی ذہانت، فوائد اور خطرات
جولائی 2026 میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں میں کہا گیا کہ چین کے ایک بحری جہاز میں ایٹمی دھماکے کے لیے مواد اور مشینری موجود ہے۔ بحری جہاز چین کی طرف رواں دواں تھا۔ AIکی تیار کردہ یہ رپورٹ ملتے ہی امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایک ہائی لیول ہنگامی اجلاس ہوا۔ فیصلہ ہوا کہ چین کے اس بحری جہاز پر امریکی لڑاکا و بمبار طیاروں کی چھتری تلے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اتر کر قبضہ کیا جائے اور اس جہاز کو ہرگز ہرگز ایران نہ پہنچنے دیا جائے۔
حملہ شروع ہونے سے ذرا پہلے ایک فوجی افسر نے مشورہ دیا کہ یہ انٹیلی جنس رپورٹ مصنوعی ذہانت کی بنائی ہوئی ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ حملہ کرنے سے پہلے اسے دوسرے ذرائع سے چیک کروا لیا جائے۔ جب دوسرے ذرائع سے چیک کروایا گیا تو معلوم ہوا کہ AIکی تیار کردہ یہ رپورٹ محض مفروضوں پر مبنی ہے جب کہ اصل میں چین کے جہاز کے اوپر کوئی ایٹمی مواد موجود نہیں۔ ممکنہ فوجی ایکشن فوری طور پر روک دیا گیا ورنہ خلیج کے علاقے میں امریکا اور چین دو بڑی طاقتور قوتیں متحارب ہو جاتیں۔ جس افسر نے AIکی رپورٹ کو دوسرے ذرائع سے تصدیق کروانے کا مشورہ دیا تھا۔
اس نے بعد میں کہا کہ اس سے پہلے عراق میں AI کی تیار کردہ ایک رپورٹ پر عمل درآمد کرتے ہوئے چند عراقیوں کو Mistaken identity کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا اور جب میتوں کا معائنہ ہوا تو پتہ چلا کہ AI نے غلط رپورٹ بنائی تھی۔ یاد رہے کہ امریکا و اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے پہلے دن جہاں سپریم لیڈر خامنہ ای اور ان کے متعدد اہلِ خانہ اور ساتھی شہید ہوئے وہیں AIکی تیارکردہ ایک اور رپورٹ کی بنیاد پر جنوبی ایران میں میناب کے علاقے میں ایک گرلز اسکول کو اسلحہ ڈپو سمجھتے ہوئے حملہ کیا........
