Ulema Ki Shahadatein: Aik Azeem Muamma
علماء کی شہادتیں: ایک عظیم معمہ
علماء کے قتل کی تاریخ طویل اور الم ناک ہے، یہ تاریخ جنگ آزادی (1857ء) سے شروع ہوئی، تحریک آزادی میں شامل بہت سے علماء قید و بند کی صعوبتوں سے گزرے اور بعد ازاں قتل کر دیے گئے، یہ واقعات ڈیڑھ صدی گزرنے کے بعد بھی اسی طرح جاری ہیں، ان میں ذرا بھی فرق نہیں آیا، جنگ آزادی ہو یا پھر تحریک آزادی، علماء ہمیشہ ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے، علماء کو ٹارگٹ کرنے والے نہ پہلے کبھی گرفتار ہوئے اور نہ ہی آج ان کا کوئی نام و نشان ہے۔ آخر یہ معمہ کیا ہے، اس کو حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
سندھ ہو پنجاب اور بلوچستان یا سرحد، علماء کی ٹارگٹ کلنگ ایک ایسا مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جس کے بارے ریاستی ادارے بھی خاموش ہیں اور عدالتیں بھی، عوام کی جانب سے ا ب ایسے سوال اٹھائے جا رہے ہیں جن کا جواب دینا ناگزیر ہو چکا۔ ایسے علمائے کرام کو شہید کیا گیا جن کی مقبولیت سے مغرب اور مغربی کارندوں کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، دینی مدارس اور دینی قیادت کی کردار کشی پر جب عالمی استعمار ناکام ہوتا دکھائی دیا تو اس کے کارندوں نے ٹارگٹ کلنگ کا آغاز کر دیا اور ایک مخصوص گروہ کو اس کام پر معمور کر دیا، علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ، مولانا ضیاء الرحمن فاروقیؒ، مولانا اعظم طارقؒ، مولانا حق نوازؒ، مولانا علی شیر حیدریؒ، مولانا سمیع الحقؒ، مولانا حامد الحق حقانیؒ، مفتی شاہ میر بزنجوؒ، مفتی منیر شاکرؒ، مفتی عبد الباقی نورزئیؒ،........
