menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Shadi

11 7
10.02.2026

ایک ایسا ملک جہاں اٹھانوے فیصد لوگ مسلمان ہیں اور ساٹھ فیصد غریب، وہاں کمرشلائزیشن نے شادی کا اصل چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، آپ امیر ہیں یا غریب، شادی پہ آپ کو امیر دکھنا ہے، آپ قرضہ لیں یا پھر چوری کریں، آپ نے شادی دھوم دھام سے کرنی ہے تاکہ خاندان میں آپ کی ناک نہ کٹ جائے، ناک کی خاطر یہاں لوگوں نے وہ ظلم سہے، وہ قربانیاں دیں، وہ جھوٹ بولے، وہ بلنڈرز کیے کہ خداپناہ۔

وہ ناک جس کی یہ اوقات ہے کہ بعد از مرگ سب سے پہلے ناک مٹی ہونا شروع ہوتی ہے، اس ناک کو رکھنے کے لیے ہم کیا کچھ کر رہے ہیں۔ وطن عزیز میں شادی بیاہ کے نام پر واہیات رسومات کا ایک ایسا سلسلہ پروان چڑھ رہا ہے کہ اب تو ڈر لگنے لگا ہے، جس تیزی سے اسلامی رسومات کا حلیہ بگاڑکر ہندی و مغربی رسومات کو اسلامی کلچر میں داخل کیا جا رہا ہے، خدانخواستہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے پاس اسلامی رسومات محض کتابوں میں باقی رہ جائیں۔

شادی کی تقاریب میں غیر ملکی کرنسی اڑانا، ون ڈش کی سرعام خلاف ورزی کرنا، مہندی میں فائرنگ کرنا، شراب و کباب اور موسیقی و رقص کی محافل سجانا، جہیز کے نام پر لڑکی والوں کو لوٹنا، ڈیمانڈ کے نام پر لڑکے والوں سے پلاٹوں کی بکنگ کروانا، یہ سب ایسی رسومات ہیں جن کا اسلام سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں شادی انتہائی آسان بنائی گئی تھی تاکہ زنا کا خاتمہ ہو اور معاشرے میں امن و اخوت........

© Daily Urdu