menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Subhat Muttahida Ki Aqwam e Jaraim Pesha

18 0
19.03.2026

صوبحات متحدہ کی اقوام جرائم پیشہ

قبلہ ایس ٹی ہالنس برطانوی راج کے پولیس سپریڈنٹ تھے۔۔ یوپی میں کوتوالی کی۔۔ ان کا سابقہ ایسے مجرموں سے پڑا جو باجماعت واردات کیا کرتے تھے۔۔ یعنی پوری کی پوری قوم ہی منظم طریقے سے وارادت ڈالتی جیسے یہ جرم سے زیادہ اس قوم کا پیشہ ہو۔۔

ایس ٹی ہالنس جب ریٹائر ہوئے ان مجرم اقوام کا کچا چٹھا کتاب کی صورت میں لکھ گئے۔۔ کتاب کا نام ہے "صوبحات متحدہ کی اقوام جرائم پیشہ"۔۔ قبلہ ایس ٹی ہالنس ذات کے انگریز تھے۔۔ فرنگ ویسے بھی سرد علاقہ ہے۔۔ کچھ ایسا ہی ان کا قلم بھی سرد مہر نکلا اور بغیر کسی کا لحاظ کیے پٹھانوں سے لے کر رانگھڑوں تک سب کو کھدیڑ دیا۔۔

یہ سب اقوام بڑے دلچسپ انداز سے وارداتیں ڈالتیں۔۔ جب نیا نیا گرامو فون ایجاد ہوا تو چائیں ملاح جو یوپی کی ایک ذات تھی اس نے بڑا دلچسپ طریقہ اختیار کیا۔۔ ان کے گینگ کا ایک آدمی کسی دیہات کے چوک چوراہے میں کھڑا ہو کر گرامو فون بجانا شروع کر دیتا۔۔ جب لوگوں کی بھیڑ اکٹھی ہوتی تو گینگ کے باقی ارکان بھی حرکت میں آتے اور بھیڑ میں گھس کر بڑی صفائی سے جبیں کتر کر پتلی گلی سے نکل جاتے۔۔

جوگی پٹھانوں کے بارے میں قبلہ ہالنس نے لکھا یہ پٹنہ کے پٹھان تھے۔۔ پورا قبیلہ اجتماعی طور پر چوری کی واردات کرتا۔۔ اگر خاندان میں کسی لڑکے کی پہلی واردات ہوتی تو بونی کے طور پر کاروائی ڈالنے کے بعد پورے قبیلے کو کھانا کھلاتا۔۔

گجر اور رانگھڑ بھی اس میں کہاں پیچھے رہتے۔۔ یو پی میں ایک کہاوت گجروں اور رانگھڑوں کی وارداتوں سے عاجز آئی عوام کے ہاں کچھ یوں مشہور تھی۔۔

کتا بلی دو، گجر رانگھڑ دو یہ چار نہ ہو تو کھول کواڑے سو

یعنی رانگھڑ، گجر اور باقی دو اجناس اگر نہ ہوں تو امن کا یہ عالم ہو کہ ہم گھر کے دروازے کھول کر بھی سو سکتے........

© Daily Urdu (Blogs)