menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khamosh Aziyat

14 0
04.04.2026

ذرا ایک عام گھرانے کی تصویر دیکھیے۔ ایک اوسط گھرانے کا ماہانہ گاڑی کا فیول جو کل تک بالفرض پچیس ہزار کا لگتا تھا، آج پینتیس ہزار مانگ رہا ہے۔ بچوں کی وین کا خرچ پندرہ ہزار سے بڑھ کر بائیس ہزار تک جا پہنچا ہے۔ بجلی کے بل جو پہلے ہی کسی عذاب سے کم نہ تھے اب فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر چالیس ہزار سے سیدھا ساٹھ ہزار تک پہنچ چکے ہیں اور سب سے بنیادی ضرورت، ماہانہ راشن، چالیس پچاس ہزار سے بڑھ کر پچھہتر ہزار تک جانے والا ہے۔ یہ محض اعداد نہیں یہ ایک عام انسان کی سانسوں کی قیمت ہے جو بڑھتی جا رہی ہے۔

اور پھر اسکول فیس۔ مہنگائی بڑھے گی تو فیس بھی بڑھے گی، کیونکہ آخر سکولز نے بھی "ایڈجسٹ" کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایڈجسٹمنٹ صرف عوام نے ہی کیوں کرنی ہے؟ کیا کسی نے کبھی یہ سوچا کہ ایک تنخواہ دار آدمی اپنی آمدن کو کہاں سے ایڈجسٹ کرے؟ یہ کہانی صرف مہنگائی کی نہیں ترجیحات کی بھی ہے۔ جن کے قافلے چالیس گاڑیوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جن کے لیے سڑکیں خالی کرا دی جاتی ہیں، جن کے لیے پروٹوکول زندگی کا حصہ ہے۔ ان کے لیے یہ سب محض خبریں ہیں۔ نہ ان کے بجلی کے بل بڑھتے ہیں، نہ انہیں فیول کی قیمت کا احساس ہوتا ہے۔ ان کے لیے مہنگائی ایک گراف ہے عوام کے لیے یہ ایک سانحہ ہے۔

یہ سانحہ کہ آپ سارا ماہ گدھے کی........

© Daily Urdu (Blogs)