menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Iran Mein Iss Waqt Kya Surat e Haal Hai?

19 2
16.01.2026

کچھ دن قبل ایران کی ڈیموگرافی کے حوالے سے ایک تفصیلی تحریر لکھی تھی۔ اس تحریر سے یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ ایران کی اکثریت اس وقت اسلامی رجیم کی تبدیلی کی خواہاں نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں بڑی تعداد میں عوام کا اسلامی حکومت کی حمایت میں سڑکوں پر نکلنا اسی حقیقت کی عملی تائید ہے، جس نے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا کہ ایران کو محض سوشل میڈیا یا بیرونی میڈیا کے بیانیے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

ہم پہلے بھی یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ کم و بیش ساٹھ فیصد، یعنی تقریباً دو تہائی ایرانی آبادی اسلامی حکومت کی حامی ہے یا وہ اس حوالے سے indifferent ہے۔ ایک تہائی سے زائد کو آپ اسلامی حکومت کا غیر مشروط مکمّل حامی قرار دے سکتے ہیں۔ یہاں یہ نکتہ دوبارہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ یہ پورے ایران کی مجموعی تصویر ہے۔ تہران، اصفہان، شیراز اور مشہد جیسے بڑے شہروں میں سماجی و فکری رجحانات مختلف ہیں جہاں جدیدیت (Modernism)، لبرل ازم اور مذہب بیزاری کا رجحان نسبتاً زیادہ نظر آتا ہے۔ ایرانی ملحدین اور لبرلز کی اکثریت بھی انہی بڑے شہروں سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے برعکس اندرونِ ایران کے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں، جہاں ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی رہتی ہے، اسلامی حکومت کے حامیوں کی تعداد واضح طور پر زیادہ ہے۔ یہی آبادی مجموعی ڈیموگرافی میں اسلامی حکومت کے حق میں وزن ڈالتی ہے۔ یہ حکومت کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیّار رہتے ہیں جن کا مقابلہ لبرلز کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا۔

اسی طبقے نے موجودہ صورتحال میں اسلامی حکومت کو سہارا دیا ہے اور یہ حقیقت میں ایک گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔ معاشی مشکلات کا شکوہ تقریباً ہر طبقے میں پایا جاتا ہے، مگر مذہبی طبقہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ ان مشکلات کے پیچھے بڑی حد تک امریکہ اور مغرب کی پابندیاں........

© Daily Urdu (Blogs)