menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naye Subon Ka Qiyam: Intizami Zaroorat Ya Governance Ka Naya Challenge?

29 0
12.10.2026

نئے صوبوں کا قیام: انتظامی ضرورت یا گورننس کا نیا چیلنج؟

ملک میں اس وقت 28 ویں آئینی ترمیم لائے جانےکی بحث چل رہی ہے اس میں ملک کے آئین کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرنے والے وسیع پیمانے پہ تبدیلیاں شامل ہیں۔ یہ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت کیوں پڑی اس کی وجہ ملک کے اصل حکمران ایلیٹ کا اس نتیجے پہ پہنچننا کہ موجودہ نظام مکمل طور پہ ناکام ہوچکا ہے اور مزید یہ نظام لوگوں کے مسائل حل کرنے سے رہا اس لئے اس کو کسی متبادل نظام کے ساتھ تبدیل کیا جائے۔

اس نئے نظام کے اندر نئے صوبوں کے قیام کے لئے آئین میں ترمیم کی شق بھی شامل ہے جس پہ ملک کے سیاست دانوں اور عوام الناس میں بحث و مباحثہ جاری ہے لیکن اس بحث کو صرف نئے صوبوں کے قیام تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کو بہتر گورننس کی فراہمی اور سیاسی اور مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے مربوط کرنا چاہیے۔ اصل مسئلہ زیادہ صوبوں کے قیام کا نہیں بلکہ اختیارات، وسائل اور احتساب شہریوں کی دہلیز تک پہنچاننا ہے اور بغیر بہتر گورننس کے نئے صوبوں کا قیام اخراجات میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا کیونکہ اگر پندرہ یا بیس نئے صوبے بنتے ہیں تو اس کا مطلب ہے پندرہ بیس وزراء اعلی، گورنرز، وزراء اعلی سیکریٹیریٹس، گورنر ہاوسسز، صوبائی سیکریٹریٹس، اسمبلیز، ایم پیز ایم این ایز یہ سب کچھ ملک پہ بھاری بھر کم اخراجات کی صورت میں برآمد ہوں........

© Daily Urdu (Blogs)