Dais Ka Aman Aur Fifth Generation War
دیس کا امن اور ففتھ جنریشن وار
کشمیر کی پرسکون وادیوں، جھیل و کنول کے دیس میں نفرت اور انتشار کا یہ زہر گھولنے والے یقیناً خطے کے امن اور استحکام کے کھلے دشمن ہیں جو مخصوص ایجنڈے کے تحت بھائی کو بھائی سے لڑانے کی ناپاک سازشوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ سال عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اثر رونما ہونے والے پرتشدد واقعات اور دھرنوں نے پرامن وادی کے ماتھے پر بدنما داغ لگایا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فرض شناس جوانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی قربانیوں کی توہین کی گئی لیکن حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں نے کمال صبر و تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کو افہام وتفہیم سے سلجھانے کی کوشش کی تاکہ دشمن قوتیں اس اندرونی خلفشار سے کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
آج جو مٹھی بھر شرپسند اور گمراہ عناصر یہ نعرے بلند کر رہے ہیں کہ پاکستانی کشمیر سے نکل جائیں وہ دراصل اپنی اوقات اور تاریخ دونوں سے بالکل بے خبر ہیں کیونکہ پاکستان کے بغیر آزاد کشمیر کا وجود اور ترقی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ سن انیس سو اڑتالیس کے معرکے سے لے کر آ ج تک پاکستان نے کشمیر کے دفاع اور بقا کے لیے اپنے ہزاروں غیور جوانوں کے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے اور معاشی و سفارتی سطح پر اربوں روپے کی قربانیاں دے کر اس خطے کو امن کا گہوارہ بنائے رکھا ہے ان تمام تر قربانیوں کے باوجود آج وہاں آٹے کی قیمتوں پر سبسڈی بجلی کے بھاری بلوں میں رعایت اور ملازمین کی مراعات جیسے مقامی مسائل کو بنیاد بنا کر عوام کو ریاست کے خلاف اکسایا جا رہا ہے........
