Khawateen Ki Shayari Mein Zaat Hadaf e Tanqeed Kyun?
خواتین کی شاعری میں ذات ہدفِ تنقید کیوں؟
ادب میں خواتین کی شرکت کوئی نئی بات نہیں۔ خواتین نے ہر دور میں اپنے احساسات و مشاہدات کو لفظوں کے پیرہن میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ یہ الگ بات کہ ماضی میں انہیں وہ مواقع کم میسر تھے مگر اب کسی حد تک زیادہ دستیاب ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں خواتین کی ادبی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ شاعری، افسانہ، ناول، تحقیق، تنقید اور دوسری اصناف میں ان کی موجودگی پہلے سے زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ لیکن اس نمایاں تبدیلی کے ساتھ کچھ ایسے رویّے بھی سامنے آئے ہیں جن پر بات ہونی چاہیے۔
اول: ہم خواتین کی ادبی خدمات کا اعتراف تو کرتے ہیں لیکن کیا ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اسی نظر سے دیکھتے ہیں جس نظر سے مرد لکھنے والوں کو دیکھتے ہیں؟
دوم: کیا ہم ان کی تخلیقات پر بات کرتے ہوئے واقعی ان کے فن کو موضوع بناتے ہیں یا کبھی ہماری گفتگو تخلیق سے ہٹ کر تخلیق کار کی ذات تک جا پہنچتی ہے؟
بعض ادبی حلقوں میں (بالخصوص نجی محافل میں) خواتین کی ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ان کے لباس، میل جول اور ذاتی معاملات کو بھی زیرِ بحث لایا جاتا ہے۔ کبھی براہِ راست اور کبھی اشاروں کنایوں میں۔ کہیں یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں خاتون کسی دوسرے سے لکھواتی ہے۔ کہیں کسی اور کا نام لیا جاتا ہے۔ یوں رفتہ رفتہ گفتگو اس بات سے ہٹ جاتی ہے کہ خاتون نے کیا لکھا ہے اور اس سوال پر........
