Wo Sach Jo Nisab Mein Jagah Na Pa Saka
وہ سچ جو نصاب میں جگہ نہ پاسکا
تاریخ ہمیشہ فاتح نہیں لکھتے کبھی کبھی طاقتور لکھتے ہیں اور طاقتور جب تاریخ لکھتے ہیں تو وہ صرف واقعات نہیں لکھتے وہ اپنے کردار بھی تراشتے ہیں، اپنے چہرے بھی روشن کرتے ہیں اور بعض چہروں پر ہمیشہ کے لیے خاموشی کی چادر ڈال دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہر قوم کی ایک سرکاری تاریخ ہوتی ہے اور ایک اصل تاریخ۔ سرکاری تاریخ بچوں کو امتحان پاس کرواتی ہے، جبکہ اصل تاریخ قوموں کو شعور دیتی ہے۔ پاکستان بھی ان بدقسمت ممالک میں شامل ہے جہاں تاریخ کو اکثر اقتدار کی ضرورت کے مطابق لکھا پڑھایا اور سنایا گیا۔ ہماری نسلوں کو بتایا گیا کہ پاکستان بن گیا، سب کچھ ٹھیک چلتا رہا، پھر اچانک مسائل پیدا ہوگئے لیکن یہ نہیں بتایا گیا کہ ریاست کی ابتدائی سمت کیا تھی؟ بانیٔ پاکستان کی اصل خواہشات کیا تھیں؟ وہ کن خطرات کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے تھے؟ اور وہ کن رجحانات سے قوم کو بچانا چاہتے تھے؟
قیوم نظامی اپنی کتاب قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل میں ایک اہم واقعہ نقل کرتے ہیں ان کے مطابق سردار عبدالرب نشتر نے قائد اعظم کو ایک رپورٹ بھیجی جس میں اس وقت کے فوجی افسر ایوب خان کے بارے میں یہ تاثر دیا گیا کہ وہ مہاجرین کی آبادکاری جیسے اہم قومی فریضے سے زیادہ سیاسی معاملات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسی روایت کے مطابق قائد اعظم نے سخت نوٹ لکھا اور ان کی کمان محدود کرنے اور انہیں مشرقی پاکستان بھیجنے کی ہدایت کی اگر یہ روایت درست ہے تو اس سے قائد اعظم کے ذہن میں موجود ایک بنیادی اصول واضح ہوتا ہے: فوج کا وقار سیاست سے دور رہنے میں ہے۔ الطاف گوہر نے اپنی کتاب گوہر گزشت میں بھی ایسے واقعات بیان کیے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ قائد اعظم فوجی افسروں کے سیاسی کردار سے مطمئن نہیں تھے ان کتابوں میں بعض روایات ایسی بھی موجود ہیں جن پر مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے لیکن ایک حقیقت پر اختلاف نہیں کہ قائد اعظم ریاستی اداروں کی آئینی حدود کے سختی سے قائل تھے۔ ان کی نظر میں ریاست کی طاقت آئین........
