Nanga Tourism Nahi Chahiye
ننگا ٹورزم نہیں چاہیے
پہاڑ صرف برف سے نہیں ڈھکے ہوتے تہذیب سے بھی ڈھکے ہوتے ہیں دریا صرف پانی نہیں بہاتے نسلوں کی روایات بھی اپنے ساتھ لیے چلتے ہیں اور وادیاں صرف سیاحوں کی تصویروں کے لیے نہیں ہوتیں وہاں لوگوں کی عزتیں اقدار اور صدیوں پرانی ثقافت بھی سانس لیتی ہے۔ گلگت بلتستان کو اللہ نے حسن کی وہ دولت عطا کی ہے جسے دیکھنے کے لیے دنیا کے کونے کونے سے لوگ آتے ہیں ہم مہمان نوازی کو عبادت سمجھتے ہیں آنے والے ہر شخص کو خوش آمدید کہتے ہیں اس کے لیے اپنے گھر کے دروازے بھی کھول دیتے ہیں مگر مہمان نوازی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ میزبان کی تہذیب کو پامال کیا جائے۔
افسوس یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں سیاحت کے نام پر ایک ایسا رویہ فروغ پا رہا ہے جس نے مقامی آبادی کو شدید........
