menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mujhe Kyun Nikala

18 0
04.06.2026

سیاست میں بعض جملے صرف الفاظ نہیں ہوتے وہ اپنے بولنے والے کا تعارف نامہ بن جاتے ہیں کچھ لوگ پوری زندگی کتابیں لکھتے ہیں مگر ایک جملہ ان کی شخصیت کا خلاصہ بن جاتا ہے۔ ہمارے سیاسی منظرنامے میں مجھے کیوں نکالا بھی ایسا ہی ایک جملہ ہے جو برسوں گزرنے کے باوجود اپنے خالق کا تعاقب کر رہا ہے۔ یہ سوال پہلی بار جب عوام کے سامنے آیا تو اسے ایک سیاسی مظلومیت کی داستان بنا کر پیش کیا گیا یوں محسوس کرایا گیا جیسے کسی بے گناہ شخص کے ساتھ ظلم ہوا ہو جیسے کسی مسیحا کو قوم سے چھین لیا گیا ہو لیکن وقت بڑا بے رحم منصف ہوتا ہے وہ جذبات کی عدالت میں نہیں حقائق کی عدالت میں فیصلے سناتا ہے۔ سوال یہ نہیں تھا کہ مجھے کیوں نکالا؟ سوال یہ تھا کہ جس شخص نے دہائیوں تک اقتدار کے ایوانوں میں وقت گزارا جسے بار بار حکومت ملی جس کے خاندان نے نسلوں تک اقتدار کے مزے لوٹے وہ آج بھی قوم کو اپنی کارکردگی کے بجائے اپنی مظلومیت کیوں بیچ رہا ہے؟

کل ہی گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں بھی یہی پرانا قصہ دہرایا گیا دس منٹ کی تقریر........

© Daily Urdu (Blogs)