Pak Fauj Mein Qaumi Difa Ki Nai Jehat
پاک فوج میں قومی دفاع کی نئی جہت
"یہ دھرتی ان خوش نصیب قوموں میں شامل ہے جنہیں ایسی فوج میسر ہے جو صرف سرحدوں کی محافظ نہیں بلکہ قوم کے اعتماد، ریاست کی خودمختاری اور مستقبل کی ضمانت بھی ہے"۔
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قومیں صرف معاشی طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط دفاع، باصلاحیت قیادت اور قومی وحدت سے اپنا مقام قائم کرتی ہیں۔ ریاست کی آزادی اس وقت تک محفوظ نہیں رہ سکتی جب تک اس کے محافظ بیدار، منظم اور ہر قربانی کے لیے تیار نہ ہوں۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی ایک بہادر، منظم اور پیشہ ور فوج عطا کی ہے جس نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ہر آزمائش میں اپنی صلاحیت، قربانی اور وفاداری کا بے مثال ثبوت دیا ہے۔
پاک فوج کی تاریخ قربانیوں، شہادتوں، استقامت اور عزم کی تاریخ ہے۔ 1948ء، 1965ء، 1971ء، سیاچن کے برف پوش محاذ، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ، آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد اور سرحدی دفاع سے لے کر قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیوں تک، پاک فوج نے ہمیشہ ثابت کیا کہ اس کا تعلق صرف بندوق سے نہیں بلکہ قوم کے دل سے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب پاک فوج میں کسی اعلیٰ افسر کو نئی ذمہ داری دی جاتی ہے تو وہ محض ایک تقرری نہیں ہوتی بلکہ قومی سلامتی کے تسلسل، ادارہ جاتی استحکام اور پیشہ ورانہ اعتماد کا اظہار ہوتی ہے۔
آرمرڈ کور سے تعلق رکھنے والے جنرل عامر رضا ملک کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی اور کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے منصب پر تقرری بھی اسی اعتماد کی روشن مثال ہے۔ یہ ترقی ایک ایسے فوجی افسر کے طویل، محنت طلب اور شاندار عسکری سفر کا اعتراف ہے جس نے میدانِ جنگ سے لے کر عسکری منصوبہ بندی، دفاعی صنعت، تربیت، انتظامی قیادت اور قومی سلامتی کے حساس ترین شعبوں تک ہر ذمہ داری کامیابی سے نبھائی۔
جنرل عامر رضا ملک نے 1988ء میں پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا۔ ان کے عسکری سفر کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان ملٹری اکیڈمی (PMA) کے بجائے آفیسرز ٹریننگ اسکول (OTS) کے ذریعے فوج میں شمولیت اختیار کی۔
یہ حقیقت اس تصور کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ پاک فوج میں ترقی کا معیار صرف قابلیت، کردار، محنت اور کارکردگی ہے۔ ادارہ اپنے افسران کو ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بنیاد پر آگے بڑھاتا ہے، نہ کہ کسی مخصوص راستے یا پس منظر کی بنیاد پر۔
ابتدائی خدمات کے دوران جنرل عامر رضا نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں، نظم و ضبط اور غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت سے اپنے سینئرز کا اعتماد حاصل کیا۔ آرمرڈ کور میں خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے جدید جنگی حکمت عملی، بکتر بند افواج کی قیادت اور آپریشنل منصوبہ بندی میں نمایاں کردار ادا کیا۔
نومبر 2007ء سے ستمبر 2009ء تک انہوں نے 6 لانسرز کی کمانڈ کی۔ بعد ازاں ایک آرمرڈ بریگیڈ، جنوبی وزیرستان میں انفنٹری بریگیڈ اور پھر ایک انفنٹری ڈویژن کی کمان سنبھالی۔
جنوبی وزیرستان میں خدمات کسی بھی فوجی افسر کے لیے انتہائی مشکل ذمہ داری تصور کی جاتی ہیں کیونکہ وہاں دشمن روایتی جنگ نہیں لڑتا بلکہ گوریلا حکمت عملی اختیار کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں کامیاب قیادت صرف عسکری مہارت ہی نہیں بلکہ غیر معمولی ذہانت، صبر اور فیصلہ سازی کا تقاضا کرتی ہے۔
جنرل عامر رضا نے اس امتحان میں بھی خود کو ایک کامیاب کمانڈر ثابت........
