menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sehat Ki Bureaucracy Aur Wazir e Aala

29 0
16.04.2026

صحت کی بیوروکریسی اور وزیر اعلیٰ

ڈیڑھ ماہ پہلے ایک عزیزہ ڈاکٹر کی چھٹی کے حوالے سے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ جانے کا موقع ملا۔ اس عزیزہ کی والدہ کو بریسٹ کینسر تھا اور آپریشن سمیت کیموتھراپی و ریڈیو تھراپی کے مراحل سے گزرنا تھا۔ ایسی صورت میں انھیں اپنی والدہ کی دیکھ بھال کرنا تھی اور ڈاکٹر یا صحت سے متعلق افراد جانتے ہیں کہ یہ تمام مراحل کس قدر پیچیدہ اور تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں بیمار ماں کی مزاج پرسی ایک بیٹی سے زیادہ کون کر سکتا ہے چنانچہ ان موصوفہ نے اپنے ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سے چھٹی کی درخواست کی جس نے درخواست کو قابل عمل سمجھتے ہوئے ڈسٹرکٹ سی ای او کو ریفر کردیا اور آخر میں درخواست محکمہ صحت کے متعلقہ سیکشن آفیسر کے پاس پہنچ گئی جن سے میری ملاقات ہوئی اور انھوں نے ہمدردانہ غور کا وعدہ کیا اور ساتھ ہی اپنا موبائل نمبر بھی دے دیا تاکہ دفتر آنے کی کوفت سے بچا جا سکے۔

میں نے اس ہفتہ میں تین سے چار بار سیکشن آفیسر سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے فون سننا گوارا نہ کیا البتہ واٹس ایپ میسیج پر اوکے اور جی ضرور کے پیغامات بھیج کر تسلی دے دی۔ یہ سارا معاملہ پانچ مارچ سے عید کی چھٹیوں تک چلتا رہا اور جب عید کے بعد میں آفس گیا تو پہلے تو سیکشن آفیسر موجود ہی نہیں تھا اور جب گھنٹوں انتظار کے بعد ملاقات ہوئی تو اس نے ٹریکنگ نمبر مانگا اور پھر کہا کہ ابھی تک تو درخواست میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سے آگے ہی نہیں بڑھی ہے۔ جس کے بعد میڈیکل سپرنٹینڈنٹ سے رابطہ کیا تو ان کا موقف تھا کہ میں نے مینول درخواست اپنے ریمارکس کے ساتھ آگے بھیج دی ہے۔

شاید انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ یہاں سارا نظام تیز ترین آنلائن بنیادوں پر قائم ہو چکا ہے چنانچہ تگ و دو کرکے معاملہ ایم ایس اور ڈسٹرکٹ سی ای او سے آگے بڑھا تو سیکشن آفیسر کے سسٹم میں پہنچ گیا۔ میں نے سیکشن آفیسر سے اعتراض کیا کہ آپ کو اپنے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ حضرات کو ٹریننگ دینی چاہئیے تھی کہ انھیں یہ بھی نہیں معلوم کہ آفس کے معمولات کو........

© Daily Urdu (Blogs)