Basant Ki Kamzor Mansuba Bandi
ایک طویل عرصہ کے بعد لاہور میں بسنت کو سرکاری سطح پر منانے کا اہتمام کیا گیا ہے اور ایک بات تو کھل کر سامنے آگئی کہ حکومتیں اور شہری انتظامیہ اکیلے کچھ نہیں کر سکتے ہیں بلکہ انھیں نظام چلانے کے لئے عوام کی شمولیت کے فارمولہ کو سمجھ لینا چاہئیے ورنہ بات بات پر پرچے کرنے سے حکومت کی رٹ کبھی بھی قائم نہیں ہو سکتی ہے۔ اسی لئے تو مہذب معاشرے اپنی عوام کی تربیت کرتے ہیں اور انھیں اتنا زیادہ نظام کے اندر مضبوط مقام دیتے ہیں کہ بد نظمی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اور جب حکومتیں زور زبردستی سے اور بات بات پر پرچے درج کرنے کی دھمکیوں سے سسٹم کو چلانا چاہتی ہیں تو نظام مملکتِ تو دور کی بات کوئی ایک تہوار بھی ڈھنگ سے نہیں منایا جا سکتا ہے کیونکہ حکمران جس عوام کو کرپٹ سمجھتے ہیں اس میں پورے ڈھانچے کا قصور ہے جو خود حکومتوں نے انتظامی اداروں اور پولیسنگ کے نظام کے ذریعہ عوام کو دیا ہے۔
اب حالت یہ ہے کہ عوام کا ان اداروں پر نہ تو اعتماد رہا ہے اور نہ ہی ان کا احترام ہی کہیں دکھائی دیتا ہے اور اصل حقیقت بھی یہی ہے کہ اعتماد سازی اور احترام سازی کا بوجھ بھی حکومت اور ان متعلقہ اداروں پر ہوتا ہے جبکہ یہاں ہر برے کام کی ذمہ داری عوام پر ڈالی جاتی ہے۔
اس سال جب حکومت نے بسنت منانے کا فیصلہ کیا تو جس طرح سے مخصوص افراد کو پتنگ سازی اور ڈور کی تیاری کے لائسنس دئیے گئے میں سمجھتا ہوں کہ اس پورے عمل نے ناصرف بسنت کے........
