menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ashrafia Ka Dohra Mayar

16 1
11.01.2026

یہ وہ کلمات ہیں جو کسی وقت میاں نواز شریف نے تسلسل سے استعمال کیا کرتے تھے جب انھیں ایک عدالتی فیصلے کے نتیجہ میں اقتدار چھوڑنا پڑا تھا اور وزارت عظمیٰ ان کے ہاتھ سے چلی گئی تھی حالانکہ اقتدار پھر بھی ان کی ہی جماعت کے پاس رہا تھا۔ یقین جانئیے یہ جملہ ہماری قومی نفسیات کا حصہ ہے۔

میں بہت سارے سرکاری افسران اور اہم عہدوں پر بیٹھے افراد کو دیکھتا ہوں کہ جب انھیں کسی اہم عہدے سے ہٹایا جاتا ہے تو وہ اس طرح سے چیختے چلاتے دکھائی دیتے ہیں اور ہر وقت دھائیاں دیتے ہیں کہ ان کو نکال کر ناصرف ان کے ساتھ بلکہ پورے نظام کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے اور پھر یہ افراد دعوے کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کو نکالنے کے نتیجہ میں اب پورا نظام تباہی کا شکار ہو جائے گا۔

بطور صحافی ہم سے ایسے افراد رابطہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان کے لئے آواز اٹھانی چاہئیے اور اس زیادتی کو عوام کے سامنے لانا چاہئیے جو ان کے ساتھ کی گئی تھی جس کی وجہ سے نظام تباہی کا شکار ہو جائے گا اور ہم اکثر میرٹ پر ان لوگوں کی آواز بنتے بھی ہیں۔ ہم نے نواز شریف کے ساتھ اقامہ کی بنیاد پر ہونے والی زیادتی پر بھی بات کی تھی اور کسی بھی سرکاری عہدیدار کے ساتھ کئے گئے ناروا سلوک پر بھی اپنے تئیں قلم اٹھایا ہے اور کوشش کی ہے کہ ان زیادتیوں کے خلاف حکام بالا تک آواز........

© Daily Urdu (Blogs)