Hamare Ustad
وقت سے بڑا استاد اور کوئی نہیں اور یہ بھی درست کہ سمے، پل یا وقت ہی دنیا کا بے تاج بادشاہ۔ خیر آج بات ان اساتذہ کی جنہوں نے ہمیں انسان بنانے کی پوری پوری کوشش کی مگر بھئی جو خدا لگتی کہیں تو جیت "استادِ کبیر" یعنی وقت ہی کی ہوئی۔ صبح فیس بک نے اطلاع دی کہ آج روحانی باپ کا دن ہے۔ خوشی ہوئی کہ ہم نے بھی قریباً دس بارہ برس اس دشت کی خاک چھانی ہے۔
امی کے بعد میری پہلی استاد زرین تھی اور ظالم نے ہمیں ایک ہی شام میں A-Z تک سکھا دی اور اس کی کوششوں کے صدقے ہم نے داخلہ امتحان آسانی سے پاس کر لیا۔ کے جی ون سے ایم ایس سی تک لاتعداد استاد ملے۔ کچھ کا دل انتہائی قدر دان اور ان کے لیے دعا گو۔ کچھ ایسے کہ ان کے لیے دعا کرنے کے لیے دل کو راضی کرنا پڑتا ہے۔ بیشتر ایسے جن کا بسیرا اب دھیان کے دریچے میں نہیں۔
آج ہم اپنے بچپن کے دو اساتذہ کا ذکر خیر کریں گے، جن میں سے ایک تو سرے سے میرے استاد ہی نہیں تھے۔ محمد پور بوائز اسکول کے محترم استاد "سر منان"۔ یہ غالباً فزکس اور متھس پڑھاتے تھے۔ آپا کو جب ان دو مضامین میں دشواری ہوئی تو سر منان کی آمد ہمارے گھر ہوئی۔ ان کا بایاں ہاتھ کہنی سے کٹا ہوا تھا اور بولنے میں قدرے ہکلاتے تھے۔ لفظ معنی ان........
