Do Dramay Aur Hamari Digital Peerhi Bardar Bibiyan
دو ڈرامے اور ہماری ڈیجیٹل پیڑھی بردار بیبیاں
نہیں بھئی ابھی کم از کم ایک صدی اور لگے گی ذہنوں میں تبدیلی آتے آتے جی بالکل یہی سوچا میں نے ان دو ڈراموں پہ آنے والے منفی تبصرے دیکھ دیکھ کر اور دل نے بے ساختہ اعتراف کیا کہ عورت کی سب سے بڑی دشمن اول عورت ہی ہے۔ ایک تو ہمارے لکھاری بچارے مجبور ہیں سنسر کا شکار کہ وہ یہ نہیں لکھ سکتے، وہ نہیں لکھ سکتے ورنہ لکھنے کو تو اس معاشرے میں ان گنت کہانیاں ہیں، کیسے ہمارے ووٹ چوری ہو جاتے ہیں، کیسے ہمارے ذہن رہن رکھ دیے جاتے ہیں، ہمارے ہسپتال، ہمارے سکول، ہمارے جنگل، ہماری دھواں چھوڑتی ملیں، ہمارے سوکھتے دریا مگر شاید یہ سب لکھنے کی اجازت نہیں، یہاں وہی پاپولر مسالہ کہانی درکار ہے۔
ایسے میں کوئی رائٹر جو ذرا روایت سے ہٹ کر تھوڑی سی دلیری دکھائے اور معاشرے کو آئینہ دکھانے اور کسی نئی سوچ اور بدلتے وقت اور زمانے کے ساتھ چلنے کی دعوت دے تو ہوتا یہ ہے کہ جیسے پرانے زمانوں میں ہوتا تھا کہ جو جیسے ہی کسی فیشن ایبل بابو یا مٹیار یا کسی بھی جدت کو دیکھا جاتا تو گلیوں چوپالوں میں پیڑھیوں پہ بیٹھی بڑی بوڑھیاں اپنے ناکوں پہ انگلیاں رکھ لیتیں تھیں۔ اسی طرح اب مختلف خواتین کے گروپس ہیں جن میں شومئی قسمت ہم بھی ایڈ ہیں اور سکرول کرتے یہ تبصرے نظر سے گزرتے ہی رہتے ہیں تو یہ ڈیجیٹل پیڑھی بردار بیبیاں شروع ہو جاتی ہیں "اوئی اللہ ہمارے زمانے میں تو ایسا نہیں ہوتا تھا یہ بے حیا" اور پھر وہ فضیحتے لیے جاتے ہیں وہ وہ اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں کردار اور کہانی پہ جن کا نہ کوئی سر ہوتا ہے نہ پیر۔
کردار اور کہانی پہ اتنا بغض نکالنے پہ پہلے تو ڈرامہ رائٹر اور ڈائریکٹر کو مبارکباد دی جانی چاہیے کہ لوگ اتنی دور تک ملوث ہو جاتے ہیں، جذباتی ہونے لگتے ہیں، پرسنل لینے لگتے ہیں تو مبارک ہو آپ کامیاب ہیں، اثر انداز ہونے پہ تالی تو بنتی ہے۔
یہاں ذکر ہے دو ڈراموں "پامال" اور "جمع تقسیم" کا، ان ڈراموں کے مرکزی خیال کو سمجھے بغیر جس قدر منفی تبصرے ہماری فیس بکی پیڑھیوں سے آئے توبہ ہی بھلی ہے اس پہ مستزاد ان خواتین کو خود پہ لکھاری ہونے کا بھی گمان ہے مگر ایک لکھاری کا تجزیہ کیا اس قدر بودا بھی ہو سکتا ہے اس پہ کف افسوس ہی ملا جا سکتا ہے۔
چلئے پہلے ذکر کرتے ہیں پامال ڈرامے کا۔ ایک ایسی الہڑ شوخ لڑکی، خواب دیکھتی لڑکی، پہاڑوں کی بیٹی۔ ایک کہانی کار جی وہ لڑکی کہانی کار ہے، کہانیاں لکھتی ہے، وہ خود ایک مکمل کہانی ہے، ایک ایسی کہانی جس کی........
