Conspiracy Theory Aur Epstein Files
کانسپریسی تھیوری اور ایپسٹین فائلز
اسٹینلے کُبریک کا شمار ہالی وڈ کے ان ہدایتکاروں میں ہوتا ہے جن کی فلموں نے ہمیشہ ناظرین کو فرسودہ نظریات سے نکل کر سوچنے سمجھنے کا ایک نیا باب دیا۔ پاتھ آف گلوری میں جنگ کی ہولناکیوں کا پردہ فاش کرنا ہو یا اسپارٹاکس میں غلامی کے خلاف مزاحمت کی داستان ہو۔ شائننگ میں تنہائی، ذہنی ٹوٹ پھوٹ اور تشدد کی کہانی تھی تو وہیں فل میٹل جیکٹ دکھاتی ہے کہ سپاہی بیک وقت انسان بھی ہیں اور اوزار بھی۔ کبریک کی بہترین فلموں کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن اس کی 1960 کی فلم "لولیٹا" بالغ اور بچے کے درمیان طاقت کے شدید عدم توازن کو ایک گھناؤنے ترین عمل کے طور پر اجاگر کرتی ہے۔ لولیٹا پیڈوفائل جیسے متنازع موضوع کے گرد گھومتی پہلی فلم کہی جاسکتی ہے۔
اسٹینلے کبرک ادبی مواد کا گرویدہ تھا، لیکن اکثر ماخذ کو وہ اپنی بصری اور فکری دنیا میں بدل دینے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا تھا۔ وارنر برادز کے بینر تلے کبرک کی فلم آئیز وائیڈ شٹ جولائی 1999 میں امریکہ میں ریلیز ہونے والی ہالی وڈ کی ایک متنازعہ فلم کہی جاسکتی ہے۔ اس فلم کی محدود اسکریننگ کے صرف پانچ روز بعد کبرک اپنے بستر پر مردہ پائے گئے۔ اسکریننگ کے بعد فلم کے فلمسازوں کا کبرک پر تقریباً ایک گھنٹے کے متنازعہ سین حذف کرنے پر شدید اصرار تھا جس پر اسٹینلے کبرک مزاحمت کر رہے تھے۔ اس پر کئی قیاس آرائیاں گردش کرتی رہی ہیں جن میں سب سے اہم یہ تھی کہ جب کبرک نے وارنر برادرز کے کہنے پر فلم سے پیڈوفائیل اور انسانی قربانی والے سین کاٹنے سے انکار کیا تو انھیں فلم کی ریلیز سے قبل ہی رستے سے ہٹا دیا گیا۔ آئیز وائیڈ شٹ (کھلی آنکھیں لیکن بند)
دراصل ڈریم اسٹوری سے اخذ کی گئی ہے جسے آسٹریا کے مصنف آرتھر شنِٹسلر نے 1926 میں لکھا تھا۔ فلم اشرافیہ اور طاقتور لوگوں کے کم عمر بچیوں کے ساتھ گھناؤنی حرکتوں اور انسانی قربانی جیسے فعل کو بے نقاب کرتی ہے اور دیکھنے والے کے حواس کو بھک سے اڑا دیتی ہے۔ جب یہ فلم ریلیز ہوئی تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ فلم کے کردار، واقعات اور منظرنامے علامتی یا اساطیری نہیں بلکہ حقیقت نگاری پر مبنی ہیں۔
سن 2024 سے اب تک ایپسٹین فائلز کی تقریباً تیس لاکھ سے زائد میلز اور تصاویر سامنے آچکی ہیں۔ آئیز وائیڈ شٹ کی کہانی، کردار، مناظر، رنگوں کا انتخاب، واقعات، سیٹس، مکالمے، ماسک، کاسٹیومز، بچیوں کی پینٹنگز اور شوٹنگ کا مقام تک یہ احساس دلاتا ہے کہ پیڈوفائل اشرافیہ کی حقیقت اسٹینلے کبرک نے 1999 میں اپنی اس فلم میں دکھانے کی بھرپور سعی کی تھی جو آج پوری دنیا آنکھیں پھاڑے دیکھ اور منہ کھولے سن رہی ہے۔
جیفری ایپسٹین اور گلین میکس ویل کے ہاتھوں بچپن میں جنسی درندگی کا شکار بننے والی خواتین کے بیانات سن کر آئیز وائیڈ شٹ فلم کے مناظر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز میں جیفری ایپسٹین کے نیویارک مین ہٹن والے گھر میں ایک نمایاں اسپائرل سیڑھی موجود تھی۔ ایپسٹین کے مقدمات کے دوران متاثرہ خواتین کے بیانات میں اس سیڑھی کا ذکر بارہا آیا، جہاں سے وہ گھر کے مختلف حصوں اور نجی کمروں تک پہنچتی تھیں۔ اسٹینلے کبرک نے فلم میں ویسی ہی سیڑھیوں اور اس کے احاطے میں چار کرسیاں اور میز بچھی دکھائی ہیں۔
فلم میں بہت سے سین، کاسٹیوم، واقعات ایپسٹین فائلز کی منظر عام پر آنے والی تصاویر سے بے حد مشابہت رکھتے ہیں۔ جب یہ فلم منظر عام پر آئی تو لوگوں نے اسے روتھ چائلڈ سریل بال روم پارٹی سے تشبیہ دی تھی جو درست بھی ہے کیونکہ روتھ چائلڈ خاندان کے بارے میں بھی بہت شک و شبہات پائے جاتے ہیں اور ایک قیاس آرائی یہ بھی ہے کہ ایپسٹین موساد، سی آئی اے کے ساتھ روتھ چائلڈ خاندان کا ٹاؤٹ تھا۔ گو کہ اسے پہلے بھی امریکہ اور یورپ میں کئی جنسی اسکینڈل سامنے آچکے ہیں جن میں چند سال قبل نوعمر بچوں کے ٹی وی چینل "نکولیڈین"........
