Mustaqbil Ki Waba
میں نے 2021 میں جب یہ کالم لکھا تھا، تو میرا مقصد کسی فلمی کہانی کا چرچا کرنا نہیں بلکہ اس ہولناک حقیقت سے پردہ اٹھانا تھا جو دبے قدموں انسانیت کی طرف بڑھ رہی ہے۔ میں نے اپنی بحث کا آغاز جنوبی کوریائی فلم ٹرین ٹو بوسن کے اس منظر سے کیا تھا جہاں ایک گاڑی سے ٹکرا کر مرنے والا ہرن اچانک ایک عجیب و غریب ہیئت میں زندہ ہو جاتا ہے اور اس کے بعد ایک بند ٹرین کے اندر موت کا جو رقص شروع ہوتا ہے، وہ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
اس مثال کو دینے کا مقصد یہ سمجھانا تھا کہ مستقبل میں آنے والی وبائیں محض اتفاق نہیں ہوں گی، بلکہ یہ ایک منظم بائیولوجیکل وارفیئر کا حصہ ہوں گی۔ میں نے متنبہ کیا تھا کہ جنیٹک انجینئرنگ کے ذریعے انسان کے اینڈوکرائن اور اعصابی نظام کو نشانہ بنایا جائے گا تاکہ انسان اپنے ہوش و حواس کھو کر ایک زومبی بن جائے۔ میں نے واضح کیا تھا کہ ان وائرسز کا الزام کسی نہ کسی جانور پر دھرا جائے گا تاکہ لیبارٹریوں کے مزموم........
